واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے ساتھ ہی عالمی سطح پر تناؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں امریکی کانگریس کے متعدد ارکان نے صدر کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبات تیز کر دیے ہیں۔ صدر نے حالیہ بیان میں ایک پوری تہذیب کے خاتمے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد ایک درجن سے زائد ڈیموکریٹ اراکین نے پچیسویں آئینی ترمیم کے نفاذ پر زور دیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت صدر کو فرائض کی انجام دہی کے لیے نااہل قرار دے کر اقتدار سنبھال سکتی ہے جبکہ کانگریس بھی اس مقصد کے لیے اپنا ایک خصوصی ادارہ تشکیل دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ رکن پارلیمنٹ یاسمین انصاری نے صدر کے لہجے کو حد سے متجاوز قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح الہان عمر نے صدر کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے فوری طور پر عہدے سے الگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شری تھانیدار کا کہنا ہے کہ صدر نے کروڑوں لوگوں کے قتل عام کی دھمکی دی ہے لہذا جنگ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہو گی۔ مارک پوکن نے ایٹمی کوڈز تک صدر کی رسائی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اگرچہ وائٹ ہاؤس نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے۔ سارہ میک برائیڈ نے صدر کے الفاظ کو نسل کشی کے مترادف اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے قانون کے تحت احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ میلانیا اسٹینسبری نے کہا ہے کہ اب پچیسویں ترمیم کے استعمال کا وقت آ گیا ہے تاہم اس کے لیے ریپبلکن اراکین کو بھی اپنا درست کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام قانون سازوں کا یہ مشترکہ موقف ہے کہ صدر کی ذہنی حالت اور حالیہ بیانات عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں اور ان کے خلاف فوری آئینی کارروائی ناگزیر ہے۔











