نیویارک (پاکستان نیوز)گورنر کیتھی ہوکل اور ان کے ممکنہ ریپبلکن حریف بروس بلیک مین کے درمیان انتخابی معرکہ مزید دلچسپ اور سخت ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ سینا کالج پول کے مطابق گورنر ہوکل کی برتری جو فروری میں 26 پوائنٹس تک تھی اب کم ہو کر محض 13 پوائنٹس رہ گئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہوکل کو 47 فیصد جبکہ بلیک مین کو 34 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ موجودہ گورنر ووٹرز کی اکثریت یعنی 50 فیصد سے زائد کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیویارک شہر میں ہوکل کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں ان کی برتری 46 پوائنٹس سے گر کر 29 پوائنٹس رہ گئی ہے۔ دوسری جانب آزاد ووٹرز کے درمیان بھی بروس بلیک مین نے اپنی جگہ بنا لی ہے اور وہ اب اس گروپ میں ہوکل سے آگے نکل گئے ہیں۔ اگرچہ 64 فیصد نیویارک کے شہری اب بھی بلیک مین کے نام یا کام سے پوری طرح واقف نہیں ہیں لیکن ان کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی دوران ریاستی پبلک مہم فنانس بورڈ کے ایک متنازع فیصلے نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ ڈیموکریٹک اکثریتی بورڈ نے ریپبلکن امیدوار بروس بلیک مین کو انتخابی مہم کے لیے ملنے والے لاکھوں ڈالر کے سرکاری فنڈز فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بورڈ کا موقف ہے کہ بلیک مین نے اپنے لیفٹیننٹ گورنر امیدوار کی تفصیلات فراہم کرنے میں تاخیر کی اور درخواست فارم میں ضروری ترمیم نہیں کی۔ اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ صرف ریپبلکن ارکان بلکہ غیر جانبدار حلقوں نے بھی اسے سیاسی طور پر جانبدارانہ قرار دیا ہے۔ گورننس پر نظر رکھنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ بورڈ کو چاہیے تھا کہ وہ امیدوار کو اپنی درخواست درست کرنے کا موقع فراہم کرتا۔ ریپبلکن قیادت نے اسے ڈیموکریٹس کی جانب سے طاقت کا ناجائز استعمال اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی کی مقبولیت اب بھی برقرار ہے اور ان کی جانب سے امیر ترین شہریوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز کو ووٹرز کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ بلیک مین نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے جس سے ریاست میں معاشی پالیسیوں پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ ہوکل کی انتخابی مہم نے بورڈ کے فیصلے میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کی ہے لیکن بدلتے ہوئے انتخابی رجحانات نے آنے والے مہینوں میں کڑے مقابلے کی نوید سنا دی ہے۔













