اسرائیل کی فنڈنگ روکنے کیلئے تاریخی قانونی بل دوبارہ پیش

0
5

نیویارک (پاکستان نیوز)مبہم خیراتی اداروں کے نام پر بیرون ملک انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لیے ایک اہم قانون سازی کو دوبارہ پیش کر دیا گیا ہے۔ ریاست نیویارک کی اسمبلی اور سینیٹ میں کونسل ارکان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مقامی ٹیکس دہندگان کی رقم کو جنگی جرائم اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد قانون پسند شہریوں کے سرمائے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے بچانا ہے۔ نئے بل کے تحت نیویارک میں رجسٹرڈ ایسے خیراتی اداروں کی نگرانی سخت کی جائے گی جو سالانہ خطیر رقم بیرون ملک منتقلی کے ذریعے تنازع والے علاقوں میں آباد کاری اور تشدد کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں کے دوران زمینوں پر قبضے اور مقامی آبادی کی بے دخلی کی شرح میں گزشتہ سال کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ قانون سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اس بل کے ذریعے ریاستی اٹارنی جنرل کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ان اداروں کی ٹیکس چھوٹ ختم کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں بشمول یہودی اور فلسطینی برادری کے نمائندوں نے اس قانون کی بھرپور تائید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ نیویارک کے عوام کا پیسہ مقامی فلاح و بہبود، صحت اور سماجی خدمات پر خرچ ہونا چاہیے نہ کہ کسی دوسرے خطے میں انسانی بحران پیدا کرنے کے لیے۔ اس بل کو قانون ساز اسمبلی میں دوبارہ لانے کا مقصد عوامی مطالبات کو حقیقی شکل دینا اور عالمی امن کے اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here