نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک سٹی کونسل کی جانب سے ایک مسلم تنظیم کو پچاسی ہزار ڈالر کا عوامی فنڈ فراہم کرنے پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے اور ناقدین اس فیصلے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نیویارک سٹی کونسل نے اس مسلم گروپ کو یہ رقم مقامی منصوبوں کے لیے بطور گرانٹ جاری کی تھی لیکن اس فیصلے کے سامنے آتے ہی شہر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ مخالفین کا الزام ہے کہ اس تنظیم کا ماضی متنازع رہا ہے اور اس نے ماضی میں ایسے مواد اور اشیاء کی تشہیر کی تھی جن کا تعلق حماس اور دیگر ایسی تنظیموں سے جوڑا جاتا ہے جنہیں حکومت نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد نیویارک کے ٹیکس دہندگان اور سیاسی حلقوں کی طرف سے کونسل کے حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ناقدین کا موقف ہے کہ عوامی فنڈز کی تقسیم سے پہلے تنظیموں کے پس منظر کی سخت جانچ پڑتال ہونی چاہیے اور ایسی کسی بھی جماعت کو سرکاری گرانٹ نہیں ملنی چاہیے جس پر کسی قسم کے شدت پسندانہ نظریات کی حمایت کا شبہ ہو۔ دوسری جانب کونسل کے حامیوں اور تنظیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز خالصتاً فلاحی اور سماجی کاموں کے لیے دیے گئے ہیں جن کا مقصد مقامی برادری کی مدد کرنا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت امریکی میڈیا میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں کونسل کے فنڈنگ کے طریقہ کار اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔














