امریکی کھلاڑی کو ریڈ کارڈ جاری ؛ ٹرمپ کی مداخلت سے فیصلہ واپس

0
6

واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جانی انفینٹینو سے امریکی سٹرائیکر فولارین بالوگن کو دئیے گئے متنازع ریڈ کارڈ اور ایک میچ کی پابندی پر نظرثانی کی درخواست کا اعتراف کیا ہے جس کے بعد فیفا نے پابندی ختم کر کے بالوگن کو بیلجیم کے خلاف کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فیفا چیف سے صرف معاملے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی اور کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ کوئی فاؤل نہیں تھا بلکہ دو کھلاڑی تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے اور بالوگن نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے سربراہ اینڈریو جولیانی اور دیگر امریکی حکام نے فیفا کو فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ صدر ٹرمپ نے میچ کے ریفری کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب فیفا کے صدر جانی انفینٹینو نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ سے رابطے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ فیفا کی ایک آزاد تادیبی کمیٹی نے کیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بوسنیا کے خلاف میچ میں ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کی مداخلت پر بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ سلوموشن ری پلے دیکھنے کے بعد ریفری نے اسے سنگین غلطی قرار دیا تھا جس پر پہلے ہی شدید بحث جاری تھی اور اب فیفا کے یو ٹرن نے ٹورنامنٹ کی شفافیت پر نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here