نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک سٹی کے حکام میئر زہران ممدانی کے عوامی سپرمارکیٹ منصوبے کے حوالے سے چھوٹے کاروباری اداروں کے تحفظات دور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم سٹی ہال میں مقامی دکانداروں کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے حالیہ اجلاس نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس ملاقات میں نائب میئر جولی سو اور شہر کے لگ بھگ 13000 بوڈیگا یعنی چھوٹی کریانہ دکانوں کے نمائندے شریک ہوئے جہاں حکام نے دکانداروں سے ان کی سب سے زیادہ بکنے والی اشیائ اور منافع کی شرح کے بارے میں سوالات کیے۔ دکانداروں نے اس مہم کو اپنے تجارتی رازوں میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت اعتراض کیا ہے۔ سٹی ہال کا مؤقف ہے کہ این وائی سی گروسریز نامی اس منصوبے کا مقصد عوامی تعاون سے سستے نرخوں پر اشیائ فراہم کرنا ہے جس کے لیے حکومت نے 70 ملین ڈالر کا سرمایہ مختص کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے میں تمام 5 اضلاع میں ایک ایک سرکاری دکان کھولی جائے گی جن میں سے پہلی دکان 2027 میں برونکس جبکہ دوسری 2029 میں ہارلم کے تاریخی بازار میں قائم ہوگی۔ دوسری طرف چھوٹے تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کرائے، تنخواہوں اور افراط زر کی وجہ سے دباؤ میں ہیں اور اگر ٹیکس گزاروں کے پیسوں سے چلنے والے ان مراکز کو کرائے یا تعمیرات میں حکومتی رعایت ملی تو نجی دکانیں ان کا مقابلہ نہیں کر پائیں گی۔ کونسل اراکین بھی انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مقامی کاروبار کے تحفظ کے لیے تحریری ضمانت فراہم کرے۔










