TSA کی نشاندہی پر ICEنے آٹھ سو سے زائد افراد گرفتار کئے، انکشاف

0
8

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی محکمہ امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کے آغاز سے فروری 2026 تک ایئرپورٹ سیکیورٹی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر 800 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے جو کہ سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ بڑی تعداد ہے۔ رائٹرز کی جانب سے حاصل کردہ اندرونی اعداد و شمار کے مطابق ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن یعنی ٹی ایس اے نے امیگریشن حکام کو 31000 سے زائد مسافروں کا ریکارڈ فراہم کیا تاکہ ان کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کی جا سکے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان میں سے کتنی گرفتاریاں براہ راست ہوائی اڈوں کے اندر عمل میں لائی گئیں، تاہم ٹی ایس اے کی فراہم کردہ معلومات مسافروں کی نقل و حرکت اور ان کے سفر کے اوقات کا تعین کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ امیگریشن اور سیکیورٹی کے یہ دونوں ادارے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا حصہ ہیں۔ ماضی میں یہ ادارے صرف قومی سلامتی کے خطرات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرتے تھے، لیکن گزشتہ سال سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کے تحت عام امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنے کے لیے بھی باہمی تعاون شروع کر دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ جس پروگرام کے تحت یہ معلومات فراہم کی جا رہی ہیں وہ 2007 میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد حکومتی واچ لسٹ پر موجود مشتبہ افراد کی نگرانی کرنا تھا نہ کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کا تعاقب کرنا۔ اس حوالے سے متعلقہ محکمے نے تاحال کوئی براہ راست جواب نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے تحت سیکیورٹی نظام کو مزید مستحکم اور بہتر بنانے کے لیے نئے حل تلاش کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے موجودہ دور اقتدار سے پہلے اس نوعیت کی گرفتاریوں کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here