ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی نے NATO کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا

0
8

نیویارک (پاکستان نیوز)نیٹو کے سربراہ نے ایران کے معاملے پر اتحادیوں کے رویے پر ٹرمپ کی مایوسی اور غصے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر کے تحفظات کو سمجھتے ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے بدھ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی صدر اس بات پر واضح طور پر برہم ہیں کہ بہت سے نیٹو اتحادیوں نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا اس طرح ساتھ نہیں دیا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ مارک روٹے نے اس ملاقات کو دو دوستوں کے درمیان ایک کھلی اور واضح گفتگو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کی مایوسی اپنی جگہ ہے لیکن انہوں نے صدر کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بہت سے یورپی ممالک نے براہ راست جنگ کے بجائے دیگر ذرائع سے امریکہ کی مدد کی ہے جن میں لاجسٹک تعاون، فضائی حدود کی فراہمی اور فوجی اڈوں تک رسائی شامل ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آئے اور انہوں نے ملاقات کے بعد اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نیٹو اتحادیوں پر کڑی تنقید کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ جب امریکہ کو ضرورت تھی تو نیٹو کہیں موجود نہیں تھا اور مستقبل میں بھی ان سے کسی مدد کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ انہوں نے اس دوران گرین لینڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے برف کا ایک بڑا اور نااہل انتظامیہ کے زیر اثر ٹکڑا قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اب بھی نیٹو سے علیحدگی پر غور کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ صدر اس معاملے پر بات چیت کر سکتے ہیں۔ مارک روٹے نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا صدر نے اتحاد چھوڑنے کی دھمکی دی ہے، تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ صدر ٹرمپ ان کے دلائل کو غور سے سن رہے تھے۔ مارک روٹے کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ تر یورپی ممالک ایران کی جانب سے افراتفری پھیلانے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ اس دوران متعدد یورپی ممالک کے سربراہان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی حکومتیں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ موجودہ عالمی حالات میں شمالی اوقیانوس کے دفاعی معاہدے کی تنظیم یعنی نیٹو کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے کیونکہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات اور اقدامات نے اس فوجی اتحاد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا امریکہ اس اتحاد سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کر لے گا یا پھر اپنی دفاعی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو کر اسے ایک غیر فعال ادارہ بنا دے گا۔ واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ اس بات پر سخت نالاں ہے کہ یورپی ممالک اپنے دفاع کے لیے درکار مالی بوجھ کا خاطر خواہ حصہ ادا نہیں کر رہے اور اس صورتحال میں امریکہ تنہا تمام اخراجات اور عسکری امداد کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور بالخصوص ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران نیٹو کے بیشتر ارکان نے امریکی موقف کی مکمل حمایت کرنے سے گریز کیا جس کے نتیجے میں امریکی صدر نے اس اتحاد کو ایک بے سود بوجھ قرار دے دیا۔ قانون سازی کی سطح پر اگرچہ امریکی ایوانوں نے ماضی میں ایسے قوانین منظور کیے ہیں جو صدر کو یکطرفہ طور پر نیٹو چھوڑنے سے روکتے ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ صدر اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یورپی سرحدوں سے فوجوں کا انخلا کر سکتے ہیں یا مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت بند کر کے اس اتحاد کو عملی طور پر ناکارہ بنا سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی دارالحکومتوں میں اس ممکنہ صورتحال کے پیش نظر شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور فرانس و جرمنی جیسے ممالک اب ایک ایسے آزاد دفاعی نظام کی تشکیل پر غور کر رہے ہیں جو امریکہ پر انحصار کیے بغیر یورپ کی سلامتی کو یقینی بنا سکے۔ دفاعی بجٹ میں حالیہ اضافے اور رکن ممالک کی جانب سے اپنے قومی پیداوار کا 2 فیصد سے زائد حصہ دفاع کے لیے مختص کرنے کے وعدوں کے باوجود امریکہ کی سخت گیر پالیسیوں میں کوئی نرمی نظر نہیں آ رہی۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان دفاعی اشتراک کے حوالے سے جاری یہ تنازع حل نہ ہوا تو یہ نہ صرف نیٹو کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی امن کا ڈھانچہ بھی مکمل طور پر بکھر سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here