حکومت کیساتھ فراڈ کے جرم میں بھارتی نژاد ڈاکٹر کو 14ملین ڈالر ہرجانے کی سزا

0
8

اٹلانٹا (پاکستان نیوز)اٹلانٹا میں مقیم بھارتی نڑاد امریکی ماہر امراضِ گردہ و مثانہ اور ان کے طبی مراکز نے حکومت کے ساتھ چودہ ملین ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کیا ہے تاکہ ان پر لگائے گئے سنگین فراڈ کے الزامات کو ختم کیا جا سکے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ کارروائی ایڈوانسڈ یورولوجی کے بانی ڈاکٹر جتینش پٹیل اور ان سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے مریضوں پر غیر ضروری ٹیسٹ اور طبی طریقہ کار مسلط کیے۔ وفاقی استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس طبی مشق کے دوران مریضوں کے ایسے ٹیسٹ کیے گئے جن کی طبی ضرورت نہیں تھی اور ان کی بنیاد پر حکومت سے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔ ان الزامات میں مستقل طور پر اعصابی محرک آلات کی پیوند کاری، بلا ضرورت الٹراساؤنڈ اور گردے و مثانے کے پیچیدہ معائنے شامل ہیں۔ حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ کلینک ہر نئے آنے والے مریض کا ایک ایسا مخصوص ٹیسٹ بھی کرتا تھا جو عام طور پر اس شعبے میں شاذ و نادر ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض صورتوں میں سادہ طبی طریقہ کار کو پیچیدہ اور مہنگا ظاہر کر کے وفاقی پروگراموں سے زائد بلنگ کی گئی۔ امریکی اٹارنی تھیوڈور ہرزبرگ نے ایک بیان میں واضح کیا کہ جب معالجین غیر ضروری طریقہ کار کے ذریعے رقم بٹورتے ہیں یا ان خدمات کا بل بھیجتے ہیں جو کبھی فراہم ہی نہیں کی گئیں، تو یہ صریحاً دھوکہ دہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کا استحصال اور حکومتی فنڈز کا غلط استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب کلینک کے ایک سابق ملازم اور ایک سابق ڈاکٹر نے ادارے کے اندرونی مالیاتی ڈھانچے اور مشکوک سرگرمیوں کے خلاف شکایت درج کروائی۔ ان شکایت کنندگان کو ان کی جرات مندی کے عوض تصفیے کی رقم میں سے تقریباً تین ملین ڈالر دیے جائیں گے۔ اگرچہ ڈاکٹر پٹیل اور ان کا ادارہ یہ رقم ادا کرنے پر راضی ہو گئے ہیں، تاہم تصفیے کے مطابق یہ محض الزامات کا تصفیہ ہے اور ابھی قانونی طور پر کسی جرم کی ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں ہوا ہے۔ ڈاکٹر پٹیل اٹلانٹا کے اس معروف طبی مرکز کے بانی ہیں جو خود کو خطے میں گردوں اور مثانے کے علاج کا سب سے بڑا ادارہ قرار دیتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here