نیویارک (پاکستان نیوز)پولیس نے ایک 23سالہ بھارتی نڑاد نوجوان تشار شرما کو دو لاکھ ڈالر کے سنگین مالیاتی فراڈ اور دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ارکاڈیا کے رہائشی اس نوجوان نے خود کو ہوم لینڈ سیکیورٹی کا نمائندہ ظاہر کر کے ایک خاتون کو ڈرایا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ ملزم نے خاتون کو یہ باور کروایا کہ اگر وہ گرفتاری سے بچنا چاہتی ہیں تو انھیں بھاری رقم ادا کرنی ہوگی جس کے بعد متاثرہ خاتون نے خوف کے عالم میں دو مختلف مواقع پر بڑی رقم ملزم کے حوالے کی۔ تفصیلات کے مطابق ملزم نے خاتون کو ہدایت کی تھی کہ وہ بینک سے نقد رقم نکال کر اسے پیک کریں اور بین برج کے علاقے میں بتائے گئے مقامات پر چھوڑ دیں۔ تیسری کوشش کے دوران جب ملزم ایک لاکھ ڈالر سے زائد کی مزید رقم وصول کرنے کے لیے خود کو قانون نافذ کرنے والا افسر ظاہر کر کے پہنچا تو نیویارک اسٹیٹ پولیس کے دستوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور رقم برآمد کر لی۔ تشار شرما پر سیکنڈ ڈگری گرینڈ لارسی یعنی بڑی چوری، دھوکہ دہی کی اسکیم بنانے اور مجرمانہ سازش کے تحت سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو چننگو کاؤنٹی جیل میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے ذاتی ضمانت پر رہا کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ وہ ریاست نیویارک سے باہر نہیں جا سکتا۔ ملزم کی اگلی پیشی 20 اپریل 2026 کو بین برج ٹاؤن کورٹ میں مقرر کی گئی ہے۔ پولیس حکام کا خدشہ ہے کہ اس گروہ کے ہاتھوں مزید لوگ بھی لٹ چکے ہیں جس کے پیش نظر ملزم کی تصویر جاری کر دی گئی ہے تاکہ دیگر متاثرین سامنے آ سکیں۔ اس واقعے کے بعد نیویارک پولیس نے عوام بالخصوص بزرگ شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کبھی بھی فون پر رقم کا مطالبہ نہیں کرتے اور نہ ہی گرفتاری سے بچنے کے لیے نقد رقم، گفٹ کارڈز یا کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا کہا جاتا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایسی کسی بھی مشکوک کال کی صورت میں فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔












