یہ سال انسانی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں عالمی طاقتوں کی انا اور سیاسی شعبدہ بازی نے دنیا کو تباہی کے گہرے غار کی سمت دھکیل دیا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی حالیہ ناکامی محض دو ممالک کے مابین تلخی کا قصہ نہیں بلکہ یہ اس عالمی معاشی و عسکری نظام کے بکھرنے کا اعلان ہے جس نے دہائیوں سے دنیا کو ایک مصنوعی استحکام میں جکڑ رکھا تھا۔ جب سے ان مذاکرات کے تعطل کی خبر عام ہوئی ہے، دنیا بھر کی منڈیاں لرز اٹھی ہیں اور حصص بازاروں میں چھائی مندی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کاروں کا عالمی امن پر سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ سفارتی رویہ ہے جو ان مذاکرات کے دوران اپنایا گیا۔ ایک جانب وہ ملک تھا جس نے دہائیوں کے تجربہ کار قانون دانوں اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کو میز پر بٹھایا تاکہ منطقی بنیادوں پر کوئی حل نکالا جا سکے، مگر دوسری جانب دنیا کی نام نہاد سپر پاور نے ریاست کے مصلحت پسند اور غیر سنجیدہ افراد کو ان نازک گفتگو کا حصہ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ ان کے نزدیک عالمی امن سے زیادہ اہم ذاتی وفاداریاں اور انتخابی شعبدہ بازیاں ہیں۔ جب مذاکراتی میز پر پیشہ ور سفارت کاروں کی جگہ تاجر اور قریبی رشتہ دار براجمان ہوں تو پھر نتائج وہی نکلتے ہیں جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، یعنی مکمل تعطل اور بے یقینی کی فضا۔ اس وقت عالمی سیاست کا رخ محض زبانی تکرار تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ بحری راستوں کی ناکہ بندی اور معاشی گلا گھونٹنے کی پالیسی تک پہنچ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی توانائی کی ضروریات کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، اب عالمی رسہ کشی کا مرکز بن چکی ہے۔ امریکی قیادت کی جانب سے اس گزرگاہ پر فوجی قبضے کی باتیں محض دھمکیاں نہیں بلکہ ایک ایسے معاشی جنگ کا پیش خیمہ ہیں جس کی تپش دور بیٹھے ممالک بھی محسوس کریں گے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اچانک ہونے والا ناقابل یقین اضافہ اس طوفان کی پہلی لہر ہے جو آنے والے دنوں میں عالمی افراط زر اور بے روزگاری کی صورت میں سامنے آئے گا۔ یہاں یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ یہ ناکہ بندی صرف ایک ملک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل ہدف وہ ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہے جو مغرب کے غلبے کو چیلنج کر رہی ہے۔ مشرقِ بعید کی اس بڑی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے توانائی کی ترسیل روکنا ایک ایسا خطرناک کھیل ہے جو دنیا کو بلاک بندی کی سیاست میں واپس لے جا رہا ہے۔ اب یہ لڑائی صرف دو دارالحکومتوں کے درمیان نہیں رہی بلکہ یہ ایک طرف مغرب کے پرانے استعمار اور دوسری طرف نئے ابھرتے ہوئے اتحاد کے درمیان بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں مغربی ایشیا کے دیگر محاذوں کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ ایک طرف امن کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف شہری آبادیوں پر بمباری کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے۔ ہسپتالوں، پلوں اور رہائشی علاقوں کی تباہی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عالمی ضمیر خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے۔ جنگ بندی کے نام پر جو دھوکا دہی کی گئی، اس نے ثابت کر دیا کہ طاقتور ممالک بین الاقوامی قوانین کو صرف اپنی سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب معاہدوں میں جان بوجھ کر ابہام رکھا جائے تاکہ فریقین کبھی ایک نقطے پر متفق نہ ہو سکیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مقصد امن نہیں بلکہ جنگ کو طول دینا ہے۔ ان حالات میں جب کسی ریاست کو دیوار سے لگا دیا جائے اور اس کی سلامتی کے تمام راستے مسدود کر دیے جائیں، تو وہ اپنے دفاع کے لیے انتہائی اقدامات پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کا مطالبہ اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ عالمی حالات میں کوئی بھی ملک اپنی بقا کے ضامن ہتھیاروں کو محض کھوکھلے وعدوں پر قربان نہیں کرے گا۔ آج کی دنیا ایک ایسے چوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف روس، چین اور ایران کا ابھرتا ہوا اتحاد ہے اور دوسری طرف تنہا ہوتا ہوا امریکہ، جس کے اپنے اتحادی بھی اب اس کی پالیسیوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔ یورپی ممالک کی جانب سے موجودہ امریکی قیادت کے سخت گیر موقف کی مخالفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب مغرب کی صفوں میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اگر یہ بحری ناکہ بندی عملی صورت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتیں اس سطح پر پہنچ جائیں گی جہاں عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے گا۔ یہ صورتحال کسی بھی طور پر عالمی مفاد میں نہیں ہے، لیکن افسوس کہ فیصلہ سازوں کی آنکھوں پر ہوسِ اقتدار کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کا توازن بگڑا ہے اور مذاکرات کے دروازے بند ہوئے ہیں، توپوں کے دہانے کھل گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عالمی قیادت ہوش کے ناخن لیتی ہے یا پھر انسانیت کو ایک ایسے المیے کی طرف دھکیل دیا جائے گا جس کا ازالہ صدیوں تک ممکن نہیں ہو سکے گا۔ وقت تیزی سے ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور ہر گزرتا لمحہ ہمیں ایک ایسی ہولناک جنگ کے قریب لا رہا ہے جس کا فاتح کوئی نہیں ہوگا، صرف ملبہ اور پچھتاوا ہی انسانیت کا مقدر ٹھہرے گا۔
٭٭٭













