روس اور طالبان کے درمیان تاریخی فوجی معاہدہ طے پا گیا

0
11

ماسکو (پاکستان نیوز)روس اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان ایک باضابطہ اور تاریخی فوجی معاہدہ طے پا گیا ہے جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماسکو میں منعقدہ بین الاقوامی سیکیورٹی فورم کے دوران اس خفیہ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دی گئی جس میں طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو نے شرکت کی۔ جولائی 2025 میں روس کی جانب سے طالبان کو افغانستان کی سرکاری حکومت تسلیم کیے جانے کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس تھا۔ اس معاہدے کے بعد سیکیورٹی ماہرین اور عالمی مبصرین کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا اب طالبان کے تجربہ کار جنگجو یوکرین کے جنگی میدانوں میں روس کی مدد کے لیے بھیجے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل روس نے جون 2024 میں شمالی کوریا کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے بعد ہزاروں شمالی کوریائی فوجی یوکرین کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر دیکھے گئے تھے۔ اگرچہ روس اور افغان وفد نے اس تکنیکی اور فوجی معاہدے کی تفاصیل کو خفیہ رکھا ہے لیکن بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا فوری مقصد یوکرین میں فوج بھیجنا نہیں بلکہ خطے میں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ہے۔ افغانستان اس وقت اپنی سرحدوں پر سیکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور اسے پرانے فوجی سازوسامان کی مرمت اور نئے ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے روس کی مدد درکار ہے۔ دوسری طرف روس وسطی ایشیا کے ممالک میں دہشت گرد تنظیم داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے پریشان ہے اور وہ چاہتا ہے کہ طالبان اپنی سرزمین کو روس کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ یوکرین کی جنگ میں براہ راست افرادی قوت کی فراہمی سے زیادہ مغربی ممالک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ماسکو اور کابل کی ایک علامتی اور سیاسی فتح کو ظاہر کرتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here