ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی اختلافات کاش پٹیل کیلئے بڑا خطرہ بن گئے

0
6

واشنگٹن (پاکستان نیوز)تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندرونی حلقوں سے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کیلئے ایک بڑا خطرہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے، جس کا سامنا انہیں آئندہ ہفتے کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیاسی اور قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کی سینیٹ سے باقاعدہ توثیق کے بعد کاش پٹیل کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کا عہدہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ پٹیل کو حال ہی میں سینیٹ کے بعض اہم ریپبلکن ارکان کے شدید مطالبات پر وائٹ ہاؤس طلب کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنی پرتعیش طرز زندگی، جیٹ اسکی کے استعمال اور ذاتی اخراجات کے بارے میں وضاحت پیش کر سکیں۔ سابق وفاقی استغاثہ اور قانونی ماہرین کے مطابق ٹوڈ بلانچ ایک انتہائی پیشہ ور شخصیت ہیں جو اپنے کام کی قانونی باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس کاش پٹیل پر یہ شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ انہیں اپنے فرائض کا کوئی اندازہ نہیں ہے اور وہ اپنے اہم ترین کاموں پر توجہ دینے کے بجائے تفریحی سرگرمیوں اور غیر سنجیدہ رویوں میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بعض حلقوں کی جانب سے نادان اور غیر پیشہ ور قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بلانچ کی آمد کے بعد پٹیل کو اپنے ہی ادارے اور انتظامیہ کے اندر سے شدید اندرونی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مواصلاتی ڈائریکٹر نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کیا ہے کہ صدارتی دفتر کاش پٹیل کے رویے یا سوشل میڈیا پر خبر رساں اداروں کے خلاف دیے گئے سخت بیانات سے ناراض ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پٹیل کو اب بھی صدر کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ وہ سال 2020 کے صدارتی انتخابات کی دوبارہ تحقیقات اور ان کے نتائج کا ازسرنو جائزہ لینے سمیت موجودہ انتظامیہ کے اہم ترین اور سب سے بڑے ایجنڈے پر پوری وفاداری سے کام کر رہے ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ یہ عوامی حمایت صرف پٹیل کی صدر سے ذاتی وفاداری کی وجہ سے برقرار ہے، لیکن پس پردہ ہونے والی تبدیلیاں مستقبل قریب میں ان کے لیے سخت دباؤ کا سبب بنیں گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here