سینیٹر لنڈسے گراہم کا 71 برس کی عمر میں انتقال ، واشنگٹن میں سوگ اور نئی بحث کا آغاز

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی سیاست کے ایک طویل ترین اور بااثر ترین رکن لنڈسے گراہم اچانک انتقال کر گئے، جس سے امریکی ایوان اور عالمی سیاسی حلقوں میں صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق ان کی ناگہانی موت کی وجہ دل کی بیماری کے باعث شریان کا اچانک پھٹ جانا بنی۔ وہ اپنی وفات سے محض ایک دن قبل ہی یوکرین کا اپنا دسواں اہم ترین دفاعی دورہ مکمل کر کے واپس دارالحکومت پہنچے تھے اور اتوار کے روز ایک اہم ٹی وی پروگرام میں شرکت کرنے والے تھے۔لنڈسے گراہم کا تین دہائیوں پر محیط طویل سیاسی سفر انتہائی اثر انگیز اور حد درجہ متنازع رہا. وہ جنوبی کیرولائنا سے کئی بار سینیٹر منتخب ہوئے اور واشنگٹن میں فوجی اور خارجہ امور کے سب سے بڑے علمبردار سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے سینیٹ کی اہم ترین کمیٹیوں کی سربراہی کی اور خارجہ محاذ پر امریکی طاقت کے استعمال کی ہمیشہ پرجوش وکالت کی۔ان کی موت کے فوراً بعد جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ملک کا عظیم سپوت اور اپنا بہترین دوست قرار دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا، وہیں کئی سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے ان کے کردار پر سخت تنقید کی ہے۔ معروف سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ لنڈسے گراہم نے محض اقتدار کے قریب رہنے کے لیے اپنے دیرینہ قدامت پسند اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا۔ وہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے شدید ترین نقاد تھے لیکن بعد میں ان کے سب سے بڑے وفادار اور سیاسی مددگار بن گئے۔ ناقدین کے مطابق گراہم نے اصول پسند سیاست کے بجائے مصلحت پسندی کو ترجیح دی، جبکہ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ ایک عملی پسند رہنما تھے جنہوں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کیے۔ ان کی تدفین کے انتظامات کے لیے تاحال تیاریاں جاری ہیں اور ان کی جگہ سینیٹ کی خالی نشست کو بھرنے کے لیے مقامی گورنر جلد ہی متبادل کا اعلان کریں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here