واشنگٹن (پاکستان نیوز) واشنگٹن میں اس وقت شدید سیاسی ہلچل مچ گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہائشی سہولیات سے متعلق ایک اہم اور دو طرفہ بل پر دستخط کرنے یا اسے ویٹو کرنے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نصف شب کو یہ بل خود بخود قانون بن گیا جس نے ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا جبکہ ڈیموکریٹس نے متحد ہو کر اس کا جشن منایا۔ اس قانون کے تحت بڑے سرمایہ کاروں کے لیے واحد خاندانی مکانات خریدنے کی حد مقرر کی گئی ہے اور ماحولیاتی جائزوں میں نرمی کے ساتھ ساتھ سستی رہائش کے ڈیزائن تیار کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس فیصلے پر قدامت پسند تجزیہ کاروں نے صدر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بل کو ویٹو کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ امن و امان کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری طرف بعض ریپبلکن اراکین نے صدر کے اقدام کا دفاع کرنے کی کوشش کی لیکن گنتی کے اعداد و شمار سے واضح ہوا کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اس بل کو بھاری اکثریت حاصل تھی جو ویٹو کو بھی ناکام بنا سکتی تھی۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس قانون سازی کا خیرمقدم کیا ہے تاہم انہوں نے صدر پر سیاسی کھیل کھیلنے کا الزام بھی لگایا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدر نے ایک ایسے بل سے خود کو الگ کر لیا جو عوام کو ریلیف فراہم کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کامیابی کا کریڈٹ لینے سے محروم ہو گئے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام جو پہلے اس بل کی تعریفیں کر رہے تھے اب اس سیاسی صورتحال پر خاموش ہیں جبکہ تجزیہ کار اسے صدر کی کمزور حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔











