نیویارک (پاکستان نیوز)میئر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک سٹی امریکہ کا پہلا شہر بن جائے گا جہاں کلک ٹو کینسل قانون لاگو کیا جائے گا۔ اس نئے قانون کے تحت تجارتی اداروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کسی بھی سروس یا سبسکرپشن کی منسوخی کو اتنا ہی آسان بنائیں جتنا کہ اس میں سائن اپ کرنا یا اسے خریدنا ہوتا ہے۔ یہ تاریخی قانون 1 اکتوبر سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوگا اور میئر کے دفتر کے اندازوں کے مطابق اس اقدام سے نیویارک کے شہریوں کو سالانہ 21.5 ملین سے 162.5 ملین ڈالر تک کی بچت ہوگی۔ میئر ممدانی کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر کوئی سروس ایک کلک سے خریدی جا سکتی ہے تو اسے ختم کرنا بھی اتنا ہی آسان ہونا چاہیے۔ شہریوں کو اگر منسوخی میں کسی دشواری کا سامنا ہو تو وہ صارف تحفظ پورٹل پر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔یہ قانون خودکار طریقے سے تجدید ہونے والی تمام سبسکرپشنز پر لاگو ہوگا اور اس کے تحت کاروباری اداروں کے لیے صارفین کے سامنے تمام شرائط واضح کرنا اور منسوخی کا سیدھا طریقہ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو صارفین کو ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا اور فی خلاف ورزی 525 ڈالر سے شروع ہونے والے سول جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نے ایک اور مجوزہ قانون بھی پیش کیا ہے جس کا مقصد پوشیدہ چارجز یا اضافی فیسوں کو روکنا ہے، جس کے تحت کاروباری اداروں کے لیے خریداری کے عمل کے دوران اضافی فیسیں لگانے کے بجائے مصنوعات کی پوری قیمت پہلے ہی بتانا لازمی ہوگا۔ اس مجوزہ قانون کی خلاف ورزی پر 350 ڈالر جرمانہ ہوگا۔صارفین کے حقوق کے محکمے کے کمشنر سیموئیل لیون کا کہنا ہے کہ یہ سبسکرپشن جال اور پوشیدہ فیسیں نیویارک کے خاندانوں کو سالانہ اوسطاً 3200 ڈالر تک کا نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ فیصلہ وفاقی سطح پر اسی طرح کے ایک قانون کو 2025 میں عدالت کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بعد مقامی حکومتوں نے صارفین کے تحفظ کے لیے خود اقدامات اٹھائے ہیں۔ یوگنڈا میں پیدا ہونے والے میئر زہران ممدانی، جنہوں نے نومبر 2025 میں سستی رہائش اور زندگی کی لاگت میں کمی کے وعدوں پر الیکشن جیتا تھا، صارفین کے تحفظ کو اپنے وسیع تر معاشی ایجنڈے کا اہم ترین حصہ قرار دیتے ہیں۔











