نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک ٹیکسی ورکرز الائنس کے ہزاروں ارکان نے اوبر اور لفٹ جیسی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ملازمت کے تحفظ کے مقامی قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین مینہٹن میں اوبر کے مرکزی دفتری ہیڈ کوارٹر کے باہر جمع ہوئے جہاں انہوں نے کمپنیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے حقوق کا مطالبہ کیا۔ ڈرائیوروں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے 3 سال کی طویل جدوجہد کے بعد نیویارک سٹی کونسل سے لوکل لا 52 منظور کروایا تھا جو انہیں بلاوجہ ملازمت سے نکالنے کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے مگر اب یہ بڑی کارپوریشنز اس قانون کو روکنے کے لیے شہر کی انتظامیہ پر مقدمہ کر رہی ہیں۔ اس نئے قانون کے بغیر اوبر اور لفٹ کے ڈرائیوروں کو کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے کام سے روکا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ راتوں رات آمدنی سے محروم ہو کر قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ ڈرائیوروں کو اکثر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں ایپ سے کیوں نکالا گیا اور ان کے پاس اپیل کا کوئی مؤثر ذریعہ بھی موجود نہیں ہوتا۔ یہ قانون غیر منصفانہ برطرفیوں کے بحران کو حل کرنے کے لیے ایک آزاد اپیل کا نظام فراہم کرتا ہے اور کمپنیوں کے لیے لازم کرتا ہے کہ وہ کسی ٹھوس وجہ کے بغیر یا پیشگی اطلاع کے بغیر کسی کو ملازمت سے نہ نکالیں۔ اس بڑے احتجاجی مظاہرے میں ٹیکسی ورکرز الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھیرویں دیسائی سمیت متعدد قانونی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور ڈرائیوروں کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ سن 1998 میں قائم ہونے والی نیویارک ٹیکسی ورکرز الائنس نیویارک شہر کے 28,000 سے زائد ٹیکسی اور رائیڈ شیئرنگ ڈرائیوروں کی نمائندگی کرتی ہے اور ان کے حقوق کے لیے کوشاں ہے۔












