واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک اعلیٰ درجے کے سابق افسر ڈیوڈ جے رش کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چالیس ملین ڈالر سے زائد مالیت کے سونے کی سلاخیں اور لاکھوں ڈالر مالیت کی غیر ملکی کرنسی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ملزم کوئی عام یا جونیئر اہلکار نہیں تھا بلکہ وہ سی آئی اے کے ایک انتہائی خفیہ منصوبوں پر کام کرنے والے شعبے میں سینیئر ایگزیکٹو سطح پر تعینات تھا اور اس کے نائب وزیر دفاع سمیت واشنگٹن کے اعلیٰ ترین حلقوں کے ساتھ قریبی پیشہ ورانہ تعلقات تھے۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ملزم نے نومبر 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان سرکاری اخراجات کے بہانے سی آئی اے کے ذخائر سے ایک ایک کلو گرام وزنی 303 سونے کی سلاخیں اور لگ بھگ 20 لاکھ ڈالر کی غیر ملکی کرنسی حاصل کی اور اسے غائب کر دیا۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی جانب سے معاملے کی اندرونی تحقیقات کے بعد مقدمہ وفاقی پولیس کے حوالے کیا گیا جس نے ورجینیا میں ملزم کے گھر پر چھاپہ مار کر تمام سونا، نقد رقم اور 35 مہنگی ترین برانڈڈ گھڑیاں برآمد کر لیں۔
تحقیقات میں یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملزم نے 2009 میں ملازمت کے آغاز پر اپنی تعلیمی اسناد اور فوجی خدمات کا ریکارڈ بھی جعلی تیار کیا تھا جس کی بنیاد پر اس نے ملک کی اعلیٰ ترین خفیہ سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کی۔ ملزم فی الحال امریکی مارشلز کی حراست میں ہے اور اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت جون 2026 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔











