تاریخ کی بدترین گرمی و تباہ کن سیلابوں کا خدشہ

0
3

نیویارک (پاکستان نیوز) موجودہ برس جون کے مہینے میں دنیا کے کئی خطوں کو تاریخ کی شدید ترین گرمی کا سامنا ہے جس نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک بالخصوص جرمنی، فرانس، اسپین اور برطانیہ میں درجہ حرارت نے پچاس برس کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور ماہرین موسمیات نے اسے انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا براہ راست شاخسانہ قرار دیا ہے۔ صرف جون کے آخری ہفتے میں یورپ بھر میں ایک ہزار تین سو سے زائد افراد گرمی کی شدت سے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد نفوس شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے اور حکومتی اداروں نے جنگلات میں آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ اس گرمی نے نہ صرف انسانی صحت کو متاثر کیا ہے بلکہ بجلی کی کھپت میں اضافے اور خشک سالی کے باعث فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یورپ کے ساتھ ساتھ ایشیائی خطے بالخصوص پاکستان اور بھارت بھی اس موسمیاتی بحران کی زد میں ہیں۔ رواں برس موسم گرما کا آغاز معمول سے بہت پہلے ہوا اور اپریل اور مئی کے مہینوں میں درجہ حرارت چھیالیس ڈگری تک پہنچ جانے سے کروڑوں افراد کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ شدید گرمی کے اس تسلسل نے زرعی پیداوار کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور دیہی معیشت کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پاکستان میں گرمی کی اس لہر نے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھایا ہے اور انسانی صحت کے نظام کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اب گرمی کے طویل دورانیے معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جو کہ خاص طور پر ان مزدوروں اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں جنہیں کھلی فضا میں کام کرنا پڑتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کا ایک اور ہولناک پہلو سیلابوں کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق فضا میں نمی جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باعث اب بارشیں غیر متوقع اور انتہائی شدید ہو رہی ہیں۔ جب زمین شدید گرمی سے بنجر ہو جاتی ہے تو وہ پانی جذب کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے جس کے نتیجے میں معمولی بارش بھی اچانک سیلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے لیے مون سون کے دوران سیلاب کا خطرہ انتہائی سنگین ہو چکا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حکمت عملی وضع کی ہے کیونکہ پچھلے برسوں میں آنے والے سیلابوں نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا تھا اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ موسمیاتی تغیر صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بحران بن چکا ہے جس کا ثبوت نیویارک میں بھی دیکھنے میں آیا جہاں مقامی انتظامیہ کو درجہ حرارت ایک سو آٹھ ڈگری تک جانے کے پیش نظر کوڈ ریڈ الرٹ نافذ کرنا پڑا۔ یہ تمام واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ زمین کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت اب انسانی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے اور اگر فوری طور پر عالمی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ آفات مزید تباہ کن صورت اختیار کر سکتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here