واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی محکمہ انصاف نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس مقدمے میں اڑتیس سالہ میکسیکن شہری نے عدالت میں اپنے سنگین جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ مجرمانہ گروہ نومبر 2020 سے ستمبر 2023 کے عرصے کے دوران افغانستان، یمن، مصر، بھارت، پاکستان، کولمبیا، گوئٹے مالا، ہونڈوراس اور ایکواڈور سمیت دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کو میکسیکو کے راستے غیر قانونی طور پر امریکی سرحد کے اندر داخل کرنے میں مصروف تھا۔ اس منظم گروہ نے میکسیکو کے شہروں مونٹری اور پیڈراس نیگراس میں خفیہ ٹھکانے قائم کر رکھے تھے جہاں تارکین وطن کو عارضی طور پر رکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں مسلح کارندوں کی نگرانی میں ان افراد کو دریا ریو گرینڈ عبور کروا کر امریکی حدود میں داخل کیا جاتا تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس گروہ نے محض 2 برسوں میں تقریباً 2500 سے 3000 افراد کو امریکہ منتقل کیا۔ اس غیر قانونی کاروبار کے ذریعے تنظیم نے ہر فرد سے 500 سے 2000 امریکی ڈالر تک وصول کیے جس سے انہوں نے تقریباً 16 سے 30 ملین ڈالر کی بھاری رقم کمائی۔ ملزم ایفین نیگا گارشیا پر ان تمام تر نقل و حمل کو منظم کرنے اور محفوظ ٹھکانوں کی نگرانی کرنے کے سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ عدالت کی جانب سے حتمی سزا کا اعلان ہونا باقی ہے تاہم وفاقی قوانین کے تحت ملزم کو کم از کم 3 برس قید کی لازمی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔









