ٹرمپ نے انسانی طرز پر بنے چینی AI روبوٹس پر پابندی عائد کر دی

0
7

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تکنیکی کشیدگی کا نیا مرکز اب مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید انسانی ساختہ روبوٹ اور توانائی کا شعبہ بن چکا ہے۔امریکہ کے وفاقی مواصلاتی کمیشن نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے غیر ملکی ساختہ جدید انسانی شکل والے روبوٹ اور چار ٹانگوں والے روبوٹ کے علاوہ شمسی توانائی اور ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والے برقی انورٹرز کی نئی درآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد حساس قومی ڈھانچے اور معلومات کو غیر ملکی نگرانی، جاسوسی اور ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ نئے قواعد کے تحت اب آئندہ کسی بھی غیر ملکی روبوٹک یا برقی آلے کو امریکی مارکیٹ میں فروخت کے لیے لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا جبکہ پہلے سے منظور شدہ آلات اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ اس اہم امریکی اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس فیصلے کو تجارت کی غیر منصفانہ سیاست کاری قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے حکام نے موقف اپنایا ہے کہ امریکہ بے بنیاد بہانوں کا سہارا لے کر عالمی تجارت اور تکنیکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ تسلط پسندانہ سوچ ترک کرے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی اقتصادی مفادات اور تجارتی اداروں کی تحفظ کے لیے تمام ضروری اور موثر جوابی اقدامات اٹھانے کا پورا حق رکھتا ہے۔ یہ تنازع اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور دفاعی معیشت کے درمیان کشمکش انتہائی حساس موڑ پر پہنچ چکی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here