جموں و کشمیر اور لداخ پرپاک چین باؤنڈری کمیشن کے قیام پربھارت سیخ پائ

0
27

اسلام آباد (پاکستان نیوز)پاکستان اور چین نے سرحدی نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور تجارتی و سفارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے اپنے مشترکہ باؤنڈری کمیشن کو باقاعدہ طور پر فعال کر دیا ہے، جس کا افتتاحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس کمیشن کی مشترکہ سربراہی پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل چین بلال محمود چوہدری اور چین کے نائب ڈائریکٹر جنرل لی یا نے کی۔ اس نئے طریقہ کار کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان حد بندی کا جائزہ لینا، سرحد پر سیکورٹی اور آمدورفت کی نگرانی کرنا اور درہ خنجراب کے ذریعے دوطرفہ تجارت اور عوامی رابطوں کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ یہ پیش رفت 2013 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے سرحدی انتظامی نظام کے معاہدے کی تعمیل میں عمل میں لائی گئی ہے، جسے سی پیک منصوبوں کی حفاظت اور خطے میں اسٹریٹجک تعاون کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے اس پیش رفت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے باؤنڈری کمیشن کے قیام کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان کوئی قانونی سرحد نہیں ہے، لہٰذا اس باؤنڈری کمیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے بھارت کا لاگو اور ناگزیر حصہ ہیں، اس لیے پاکستان کے پاس ان علاقوں کے بارے میں کوئی بھی معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ بھارت نے 1963 کے پاک چین سرحدی معاہدے کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو تمام غیر قانونی مقبوضہ علاقے فوری طور پر خالی کر دینے چاہئیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here