واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی مشیر اور خاص معاون نیٹالی ہارپ کی جانب سے دیکھائے گئے میڈیا کوریج کے اقتباسات کے بعد وائٹ ہاؤس نے تین اہم امریکی خبری اداروں یعنی سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کے داخلے اور صحافتی مراعات پر اچانک پابندی عائد کر دی ہے، جس پر امریکہ میں شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیٹلی ہارپ نے حال ہی میں صدر کو ایسی نشریات اور تصویری مواد دکھایا تھا جن میں ان کی انتظامیہ پر تنقید اور عدالتوں و کانگریس میں ان کو ملنے والی ناکامیوں کا ذکر تھا۔ اس مواد کو دیکھنے کے بعد صدر شدید برہم ہو گئے اور انہوں نے ان تمام اداروں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ نیٹلی ہارپ، جو صدر کو خبروں کی پرنٹ شدہ کاپیاں اور اہم ویڈیو کلپس فراہم کرنے کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں، کے اس قدم نے وائٹ ہاؤس کے دیگر سینئر اہلکاروں کو بھی حیران کر دیا کیونکہ یہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے سامنے آیا۔ ہفتے کی صبح جب ان اداروں کے صحافی وائٹ ہاؤس پہنچے تو ان کے کارڈ ضبط کر کے انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔ جواب میں ان تینوں اداروں نے آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی اور آزادیِ صحافت کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ دوسری جانب دیگر تمام بڑے نیٹ ورکس نے بھی سی این این کی حمایت میں وائٹ ہاؤس پول کوریج کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔











