امیگریشن عدالتی نظام کو حکومتی دباؤ کا سامنا، خودمختار و آزاد بنانے کیلئے بل پیش

0
4

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکی ایوان نمائندگان کے رکن ڈینیل گولڈمین نے ملک کے امیگریشن عدالتی نظام کو خود مختار بنانے کے لیے ایک اہم بل پیش کر دیا ہے جس کا مقصد ان عدالتوں کو وزارت انصاف کے انتظامی کنٹرول سے نکال کر ایک آزاد عدلیہ کی شکل دینا ہے۔ اس قانون سازی کو ریئل کورٹس رول آف لاء ایکٹ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تائید زو لوفگرین، جیمی راسکن اور ہینک جانسن جیسے ممتاز قانون سازوں نے بھی کی ہے۔ ڈینیل گولڈمین کا موقف ہے کہ موجودہ نظام میں امیگریشن ججز کا تقرر اٹارنی جنرل کے ذریعے ہوتا ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ سمیت مختلف حکومتوں کو ان عدالتوں پر سیاسی دباؤ ڈالنے اور عدالتی آزادی کو متاثر کرنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے معاملات زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے فیصلے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ماحول میں ہونے چاہئیں۔ اس مجوزہ بل کے تحت امریکہ میں ایک آرٹیکل ون عدالت قائم کی جائے گی جس کے اپنے ٹرائل، اپیل اور انتظامی شعبے ہوں گے جبکہ اسے اپنا بجٹ خود طے کرنے اور شفافیت کے فروغ کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس وقت امریکی امیگریشن نظام تقریباً 40 لاکھ زیر التوا مقدمات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور حامیوں کا خیال ہے کہ انتظامیہ کی مداخلت ختم ہونے سے ان مقدمات کو تیزی اور شفافیت سے نمٹانے میں مدد ملے گی۔ اس قانون سازی کو امریکی بار ایسوسی ایشن، فیڈرل بار ایسوسی ایشن اور امیگریشن ججز کی قومی تنظیم سمیت کئی قانونی اداروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے جو سمجھتے ہیں کہ یہ قدم قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here