مسلمانوں کا واٹر پارک میں عید کا دن منانے پر تنازع کھڑا

0
45

ہیوسٹن(پاکستان نیوز)ٹیکساس کے شہر گرینڈ پریری میں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والے ایک مشہور واٹر پارک نے عید کی مناسبت سے صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ایک دن منانے کا اعلان کیا ہے جس نے مقامی سطح پر ایک نئی بحث اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ ایپک واٹرز نامی اس واٹر پارک کی جانب سے یکم جون کے لیے جاری کردہ اشتہارات میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تقریب میں صرف مسلمان شرکت کر سکیں گے اور وہاں صرف اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیا حلال گوشت فراہم کیا جائے گا۔ منتظمین کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں شرکا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی اخلاقیات اور حیا کے تصور کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی نظریں نیچی رکھیں اور مخصوص لباس کے ضابطے کی سختی سے پابندی کریں۔ اگرچہ پارک کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حصے نہیں ہوں گے تاہم خواتین کو سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والے تیراکی کے لباس پہننے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عوامی ٹیکسوں سے چلنے والا ایک سرکاری ادارہ کسی خاص مذہب کی بنیاد پر دیگر شہریوں کو داخلے سے کیسے روک سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ پارک 88 ملین ڈالر کی عوامی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے جس کے لیے شہر کے تمام رہائشیوں نے سیلز ٹیکس کی صورت میں رقم ادا کی ہے۔ اس تقریب کا انتظام ایسٹ پلانو اسلامک سینٹر کے پاس ہے جس نے اسے ایک خاندان دوست ماحول فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے جبکہ دوسری طرف کئی قانونی ماہرین اور سماجی شخصیات اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ مقامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے رہی ہے جبکہ پارک کی ویب سائٹ پر ماضی کے شرکا کے تعریفی پیغامات بھی موجود ہیں جو اس ماحول کو سراہ رہے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here