امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان سنگین جنگی صورتحال کو ٹالنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے اور وائٹ ہاؤس نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر سے طویل ٹیلیفونک گفتگو کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ ان حساس ترین سفارتی مذاکرات کے حوالے سے عالمی سطح پر یہ امکانات زیر بحث ہیں کہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقات اسلام آباد میں منعقد ہو سکتی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ پاکستانی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ مذاکرات انتہائی حساس اور خفیہ نوعیت کے ہیں، لہٰذا ان کی جزئیات میڈیا کے ذریعے عام نہیں کی جائیں گی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہ کر دیا جائے، ان ملاقاتوں کی خبروں کو حتمی نہ سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ترجمان نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر تمام فریقین باہمی طور پر راضی ہوں تو امریکہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل تیار ہے، جبکہ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے توثیق کی ہے کہ پاکستان نے موجودہ بحران کے حل کے لیے خود کو ایک مرکزی اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کر دیا ہے۔دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران خطے کی صورتحال انتہائی خطرناک نہج پر پہنچ چکی تھی، خاص طور پر اس وقت جب صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک قطعی الٹی میٹم جاری کیا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ نہ کھولا گیا تو امریکی افواج ایران کے تمام بجلی گھروں، توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے پر براہ راست حملہ کر کے انہیں مکمل طور پر مفلوج کر دیں گی۔ اس سنگین دھمکی کے جواب میں تہران نے بھی انتہائی سخت موقف اختیار کیا اور اعلان کیا کہ اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اثاثوں، تیل کی تنصیبات اور مالیاتی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جائے گا۔ یہ کشیدگی نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے خودکش ثابت ہو سکتی تھی، جس کا براہ راست فائدہ اسرائیل کو پہنچتا جو عرصہ دراز سے اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے اور اپنے مخالفین کی کمزوری کا خواب دیکھ رہا ہے۔اس بحرانی کیفیت میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی پسِ پردہ مربوط سفارت کاری اور بیک چینل رابطوں نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے زمینی حقائق اور معاشی نقصانات کو بھانپتے ہوئے اپنی جارحانہ حکمت عملی میں نرمی پیدا کی اور مزید پانچ دن کی مہلت دیتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے پرامن حل کی گنجائش پیدا کی۔ پاکستان اس وقت عالمی برادری میں ایک علاقائی استحکام لانے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے اور پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کو یہ منفرد مقام اس لیے حاصل ہے کیونکہ اس کے تہران کے ساتھ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور دوسری جانب فیلڈ مارشل کے امریکی عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ بھی انتہائی مضبوط پیشہ ورانہ مراسم موجود ہیں۔ امریکی صدر نے بارہا فیلڈ مارشل کی پیشہ ورانہ مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا ہے، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں ہی اسلام آباد کی ثالثی پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات پاکستان کی سرزمین پر کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو یہ ملک کے لیے ایک عظیم سفارتی فتح ہوگی، جس سے جہاں ایک طرف بھارت کی علاقائی تنہائی میں اضافہ ہوگا وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کا وقار ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر مزید مستحکم ہو جائے گا۔
٭٭٭
















