موجودہ دور میں بین الاقوامی سیاست محض ہتھیاروں کے زور پر نہیں بلکہ معلومات کے ہیر پھیر اور بیانیوں کی جنگ پر کھڑی ہے جہاں حقائق کو مسخ کرنا اور من گھڑت قصوں کے ذریعے عوامی رائے عامہ کو یرغمال بنانا ایک عام حربہ بن چکا ہے۔ حال ہی میں بحر ہند کے ایک دور افتادہ جزیرے ڈیگو گارسیا پر واقع امریکی اور برطانوی مشترکہ فوجی اڈے پر مبینہ میزائل حملے کی خبر نے پوری دنیا میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے لیکن اگر اس واقعے کی گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ پورا معاملہ ایک سوچی سمجھی سازش اور نفسیاتی جنگ کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا اور مغربی دنیا کو ایک فرضی خطرے کے سائے میں متحد کرنا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ اور فکری اداروں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے 4000 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود اس فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جو کہ تہران کی دفاعی صلاحیتوں میں اچانک اور غیر فطری اضافے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس پورے ڈرامے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جس فریق پر الزام لگایا جا رہا ہے اس نے نہ صرف اس کی تردید کی ہے بلکہ اس پورے واقعے کو ایک تماشہ قرار دیا ہے۔ ایران کی دفاعی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس نے کوئی کارروائی کی ہے تو اس کی ذمہ داری برملا قبول کی ہے چاہے وہ عراق میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ہو یا حالیہ برسوں میں اسرائیل کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیاں۔ تہران ہمیشہ اپنے سرکاری ذرائع سے اعلان کرتا ہے کہ یہ دفاعی اقدام اس کے حقوق کا حصہ ہے لیکن اس بار خاموشی اور تردید یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ میزائل کسی زمین سے نہیں بلکہ مغربی پروپیگنڈا مشینری کے ذہنوں سے داغے گئے ہیں۔ اس مبینہ حملے کے حوالے سے کوئی بھی ٹھوس ثبوت اب تک منظر عام پر نہیں لایا جا سکا ہے۔ جدید دور میں جب ہر لمحہ سیارچوں کے ذریعے زمین کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ریڈار کا نظام اتنا حساس ہے کہ پرندے کی پرواز کو بھی محفوظ کر لیتا ہے وہاں دو بڑے بیلسٹک میزائلوں کا سفر اور ان کا گرایا جانا بغیر کسی ویڈیو یا تصویری ثبوت کے محض ایک کہانی ہی معلوم ہوتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے سابق افسران اور غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے بھی اس پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی کوئی ایسا واقعہ ہوا ہوتا تو اب تک اس کا ملبہ اور سیارچوں سے لی گئی تصاویر دنیا کے سامنے ہونی چاہیے تھیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا حملہ ہے جس کا کوئی مادی وجود نہیں ہے۔ اس قسم کے جھوٹے واقعات گھڑنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ہمیں وہ وقت یاد ہے جب عراق کے پاس تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی کا واویلا مچا کر ایک پوری جنگ مسلط کر دی گئی تھی اور لاکھوں انسانوں کا خون بہانے کے بعد یہ اعتراف کیا گیا کہ وہاں کوئی ایسے ہتھیار موجود ہی نہیں تھے۔ ڈیگو گارسیا کا یہ حالیہ قصہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتا ہے جہاں ایک طرف برطانیہ کو اس جزیرے کی ملکیت کے حوالے سے بین الاقوامی قانونی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری طرف امریکہ ایران پر مزید پابندیاں لگانے اور فوجی کارروائی کا جواز پیدا کرنے کے لیے بے چین ہے۔ اس جزیرے کو خطرے میں دکھا کر برطانیہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ یہاں اس کی اور امریکہ کی موجودگی عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے ورنہ یہ علاقہ دہشت گرد ریاستوں کی زد میں آ جائے گا۔ مغربی میڈیا کا کردار اس پورے معاملے میں ایک تنخواہ دار کارندے جیسا رہا ہے جہاں تمام بڑے اخبارات اور ٹیلی ویڑن چینلز ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔ جب صحافت میں اختلاف رائے ختم ہو جائے اور تمام ادارے ایک ہی مخصوص بیانیے کی تشہیر شروع کر دیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں۔
ان ماہرین نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایران اب یورپ کے دل تک مار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے تاکہ یورپی ممالک میں خوف کی لہر دوڑائی جا سکے اور انہیں ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے تیار کیا جا سکے بالخصوص جب امریکی انٹیلی جنس کی اپنی سربراہ تلسی گبارڈ یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ ایران فی الحال کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔ تہران نے اس خبر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک نفسیاتی آپریشن قرار دیا ہے جس کا مقصد خطے میں مغربی فوجی توسیع پسندی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کے بارے میں جو غلو کیا جا رہا ہے وہ دراصل اس کی دفاعی طاقت سے خوفزدہ ہونے کا نتیجہ ہے لیکن اس خوف کو جھوٹی خبروں کے ذریعے پھیلانا عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ حملہ ہوا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ ریڈار کا ڈیٹا اور میزائلوں کے باقیات دنیا کو دکھائیں محض یہ کہہ دینا کہ ہم نے میزائل گرا دیا اور خطرہ ٹل گیا اب کافی نہیں رہا کیونکہ دنیا اب ان پرانے حربوں کو سمجھنے لگی ہے۔
اس مبینہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں سچ وہی ہے جو طاقتور کا بیانیہ ہے لیکن سچائی کے طالب آزاد منش لوگ ہمیشہ ان تضادات کو بھانپ لیتے ہیں جو ان کہانیوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔ ایک طرف ایران کی مسلسل تردید اور دوسری طرف امریکہ کی اپنی انٹیلی جنس رپورٹوں کا تضاد یہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ڈیگو گارسیا کی فضائیں پرامن تھیں اور وہاں ہونے والا دھماکہ صرف مغربی میڈیا کے سٹوڈیوز تک محدود تھا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو میدانِ کارزار میں نہیں بلکہ خبروں کے صفحات پر لڑی جا رہی ہے جہاں دشمن کو اتنا طاقتور دکھایا جاتا ہے کہ اس کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے اور پھر اس کی شکست کا اعلان کر کے اپنی برتری ثابت کی جاتی ہے۔ حقائق ہمیشہ دیر سے سامنے آتے ہیں مگر وہ جھوٹ کی بوسیدہ عمارت کو گرا کر ہی دم لیتے ہیں۔













