حقیقت پسندی اور جذباتیت کا سراب!!!

0
22
شمیم سیّد
شمیم سیّد

تزویراتی معاملات اور بین الاقوامی تعلقات کی بساط پر جب ہم جذباتی وابستگیوں اور مذہبی بیانیے کو عقل و دانش کی میزان پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر اوقات ایک گہری خلیج دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران و عرب ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ محض نعروں اور وقتی فتوحات کی خوشی میں مستقبل کے سنگین نتائج سے آنکھیں چرانا دانشمندی نہیں بلکہ خودکشی کے مترادف ہے۔ کسی بھی قوم کی بقا کا دارومدار اس کی معاشی استحکام، دفاعی حکمتِ عملی اور گرد و پیش کے حالات کے درست ادراک پر ہوتا ہے۔ جب ایک عالمِ دین یا مفکر ان معاملات پر گفتگو کرتا ہے تو اس کا مقصد کسی مخصوص گروہ کی مخالفت نہیں بلکہ ان اسباب کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے جو ماضی میں ہماری پستی کا سبب بنے۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ ہم ان تمام تحریکوں کا جائزہ لیں جو گزشتہ دو صدیوں میں عالمی قوتوں کیخلاف ابھریں لیکن ان کے پیچھے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی یا دور اندیشی موجود نہ تھی۔ ایسی تحریکوں نے آغاز میں تو جوش و جذبے کی لہر پیدا کی مگر انجام کار مسلمانوں کو مزید معاشی اور سیاسی بحرانوں میں دھکیل دیا۔
مذہبی ذہن کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ ماضی کی عظمت کے سحر میں اس قدر گرفتار رہتا ہے کہ اسے حال کے چیلنجز اور وسائل کی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔ جب ہم مادی دنیا میں رہتے ہوئے روحانی اصولوں کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کو فراموش کر دیتے ہیں تو ہمیں ہر قدم پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عرب ممالک کی خارجہ پالیسی اور وہاں غیر ملکی دفاعی مراکز کی موجودگی پر تنقید کرنا تو بہت آسان ہے لیکن ان ریاستوں کے اپنے تحفظ اور بقا کے خدشات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں بھی ریاستِ مدینہ کے تحفظ کے لیے غیر مسلموں کے ساتھ معاہدات کی مثالیں موجود ہیں۔ اگر ایک ریاست یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے پڑوس سے اسے خطرہ لاحق ہے تو وہ اپنے دفاع کے لیے عالمی طاقتوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کا پورا حق رکھتی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ ہوتا ہے جسے بلاوجہ عقیدے یا مذہبی حمیت کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرنا علمی خیانت ہے۔ سیاست اور جنگ کے میدان میں فیصلے جذبات کے بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے کیے جاتے ہیں تاکہ انسانی جانوں کا زیاں کم سے کم ہو۔
حالیہ واقعات میں جب تزویراتی اڈوں پر حملوں کو فتح قرار دیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے چھپے ہوئے طویل المدتی نقصانات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جنگ صرف دشمن کو نقصان پہنچانے کا نام نہیں بلکہ اپنی قوت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے فیصلہ کن موڑ پر لانے کا فن ہے۔ اگر کسی اقدام کے نتیجے میں دشمن کو اخلاقی جواز مل جائے اور وہ جوابی کارروائی میں پوری بستیوں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دے تو ایسی فتح کو کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔ مسلمانوں کو اس وقت جس رویے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے اپنی طاقت کا درست اندازہ لگانا۔ ایٹمی صلاحیت ہو یا روایتی ہتھیار، ان کا مقصد امن کی ضمانت ہونا چاہیے نہ کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے لیے مشکلات پیدا کرنا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا اب ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے جہاں کوئی بھی ملک تنہا رہ کر ترقی نہیں کر سکتا۔ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی پاسداری کمزوری کی علامت نہیں بلکہ دانشمندی کا راستہ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے توازن کو برقرار رکھا اور اپنی ترجیحات کا درست تعین کیا وہی کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ پاکستان جیسی ریاستوں کے لیے بھی یہی سبق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات کو مدنظر رکھیں۔ محض بھائی چارے کے نعروں میں آکر اپنی سلامتی کو داؤ پر لگا دینا کوئی قابلِ تحسین عمل نہیں ہے۔ ہمیں اس شکست خوردہ ذہنیت سے نکلنا ہوگا جو ہر حادثے کے بعد نوحہ گری شروع کر دیتی ہے لیکن حادثہ ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتی۔ غلبہِ اسلام کی خواہش رکھنا ایک فطری عمل ہے لیکن اس کے لیے علم، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں سبقت لے جانا لازمی شرط ہے۔ جب تک ہم دوسروں کے دستِ نگر رہیں گے، ہم اپنی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکیں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here