معرکۂ حق…وطن پہلی ترجیح!!!

0
22
جاوید رانا

قارئین کرام ! مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان ہماری دھرتی ماں کی تاریخ میں قیام پاکستان کے بعد یوں تو مختلف حوالوں سے کامیابیوں اور فخر کی طویل فہر ست ہے تاہم ماہ مئی گزشتہ برس ازلی دشمن کے فالس فلیگ آپریشن کے جواب میں معرکہ حق کا اقدام بنیان المرصوص شجاعت و تحفظ اور قومی فتح کا وہ سنہرا باب ہے جس نے نہ صرف ازلی دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے بلکہ دنیا بھر میں اسے ناکامی، ذلت اور رسوائی و عبرت کی مثال بنا دیا جبکہ وطن عزیز اور ہمارے عساکر کو شجاعت استقلال، اتحاد، عزم اور حوصلے کی روشن مثال اکناف عالم میں تسلیم کیا گیا بلکہ آج پاکستان میں امن و آشتی ، مصالحت کا استعارہ بنا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ معرکہ حق ہر پاکستانی کیلئے بشمول اوور سیز پاکستانیوں عزت و افتخار اور قدر و منزلت کی سرشاری میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہمیں اس امر پر فخر ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے پیارے وطن کو امن ومحبت اصل شجاعت و مصالحت کے حوالے سے بلند مقام حاصل ہے۔ معرکہ حق و فتح کے ایک سال کی تکمیل پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسرت و انبساط اور رب تعالی کے شکر کی تقاریب منائی گئیں، امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ، قونصل خانوںسمیت پاکستانی تنظیموں اور پاکستانیوں نے نجی طور پر بنیان المرصوص کی کامیابی پر تشکر و افتخار کی تقاریب منعقد کیں ۔ شکاگو میں پاکستان قونصلیٹ کے زیر اہتمام ہونے والی تقریب قونصل جنرل کی زیر قیادت اور پاکستانی کمیونٹی کی بیمثال شرکت کے سبب نہایت کامیاب رہی ۔
یہ معرکۂ حق کی کامیابی ہی تھی کہ بھارت دنیا بھر میں نہ صرف ذلیل و رسوا ہوا بلکہ خود بھارت کے اندرمودی کو سیاسی، معاشرتی اور اپنے ہی میڈیا نے دو کوڑی کا کر دیا ۔جبکہ الحمد اللہ پاکستان کی قدر و منزلت کو تمام ممالک و عالمی ادار وں نے عزت و وقار اور مقتدر ریاست کے اعزاز سے نوازا۔ بیشک رب قدیر جسے چاہے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ اور نصف صدی سے امریکی، اسرائیلی و مغربی طاقتوںسے دبائو اور پابندیوں کے شکار ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اور اسرائیل کی سازش کے بموجب ہونے والی جنگ میں پاکستان کا مصالحاتی و ثالثی کردار معرکہ حق میں فتح و شجاعت کے سبب ہی ہوا ۔ ٹرمپ کا بار بار پاکستانی قیادت اور پاکستان کی تعریف کرنا بھی اسی حقیقت کا ثبوت بنتا ہے ۔ جنگ بندی کا نفاذ اور توسیع بلا شبہ کوئی معمولی بات نہیں، نہ ہی 47 برسوں بعد مذاکرات کیلئے فیس ٹو فیس بیٹھنا آسان تھا لیکن پاکستانی قیادت اور محکمہ خارجہ نے اسے ممکن بنایا تاہم نیتن یاہو اور امریکی صیہونی لابی نے اپنی منکرانہ فطرت سے ٹرمپ کو ماموں بنا کر اپنے مسلم دشمنانا ایجنڈے کے تحت روڑے اٹکائے اور ہنوز دلی دور ہے۔
ٹرمپ کی سیمابی و رنگ بدلتی فطرت کے ناطے ہم اپنے کئی کالم سیاہ کر چکے ہیں اور قارئین ہی نہیں خود امریکی عوام ، ڈیمو کریٹس حتیٰ کہ ریپبلیکنز بھی ٹرمپ کی بیانیاتی و ٹوئٹر قلابازیوں سے نالاں ہیں اور انتخابی متوقع ناکامی سے خوفزدہ ہیں جس نے کبھی تو لا کبھی ما شا مؤقف سے امریکہ ایران جنگ کو بھی کنفیوژن کی نظر کر دیا ہے، قارئین ہر لمحے کے حالات سے یقینا واقف ہیں بلکہ اپنے تاثرات بھی رکھتے ہوں گے۔ کانگریس میں ڈیفنس کمیٹی کے نمائندگان کی جانب سے سیکریٹری دفاع ہیگسیتھ کے بخیے ادھیڑنے اور جنگ کی مخالفت کے باوجود لگتا یہی ہے کہ جنگ رکنے والی نہیں، آبنائے ہرمز میدان کارزار بنی ہوئی ہے، ناکہ بندی کے ساتھ ٹرمپ نے پروجیکٹ فریڈم کا اعلان بھی کر دیا ہے تو ایران نے امریکی جہازوں پر حملے کے ساتھ یو اے ای کے جہازوں کو بھی میزائیلوں سے تباہ کرنے کا اقدا م کیا ہوا ہے حتیٰ کہ یوای اے کے فلیگ بردار جہاز پر حملہ کر دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بدلہ لینے کا حق واضح کر دیا۔ موصولہ اطلاعات سے یہ خدشہ جنم لے رہا ہے کہ محاذ آرائی رکنے والی نہیں اور اسکے شعلے مزید بھڑک سکتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان اپنے طور پر خطے میں امن کی بھر پور کو ششیں کر رہا ہے اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک ان کوششوں کو سراہتے بھی ہیںاور حمایت بھی کرتے ہیں،لیکن ہمارے خدشات گریٹر اسرائیل کے منصوبہ سازوں نیتن یاہو ، مضبوط صیہونی لابی اور ٹرمپ کی متلون فطرت کے تناظر میں وہی ہیں جن کا اظہار گزشتہ کئی بار کر چکے ہیں۔ ہماری عرضداشت یہی ہے کہ دنیا کی واحد نیو کلیائی اسلامی ریاست کے پاسداران حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ راستہ اور کردار اپنائیں جو ہماری پاک دھرتی کی سلامتی، بقاء اور خوشحالی کی ضمانت ہیں ، امریکہ ہو یا کوئی مملکت اپنے مفاد کومقدم رکھتے ہیں ۔ہمیں بھی اپنی بقا کو اولیت دینی ہوگئی، یہی تاریخ کا سبق ہے۔
٭٭٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here