آزادی کے نام پر بربادی!!!

0
17
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ ایک زمانہ تھا کہ بے حیائی، عریانیت اور غیر اخلاقی حرکات و سکنات ایک مخصوص دائرے تک محدود تھیں اور لوگ آزادانہ رائے کے اظہار سے بھی ہچکچاتے تھے کیونکہ معاشرے میں پردے داری کا تصور موجود تھا۔ لیکن موجودہ دور میں جہاں جدت کے نام پر بہت سی تبدیلیاں مسلط کی گئیں، وہیں کچھ ہم نے خود بھی رضاکارانہ طور پر اپنا لیں اور اس کوے کی مانند بن گئے جو اپنی چال بھول کر ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں اپنی پہچان کھو بیٹھا۔ اب ہم پریشان ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سے سازشی عناصر کارفرما ہیں، مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اب ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔ جس طرح موت کے فرشتے کو کوئی مورد الزام نہیں ٹھہراتا، اسی طرح ہم ان شیطانی فتنوں پر غور نہیں کرتے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ماضی میں مغربی قصاب مخصوص جوتے پہن کر کام کرتے تھے تو کسی شیطانی دماغ نے وہی اونچی ایڑی صنفِ نازک کو پہنا کر اسے نمائش کا نام دے دیا اور اس دوڑ میں نہ جانے کتنی خواتین جسمانی و سماجی نقصانات سے دوچار ہوئیں۔ اس مصنوعی چمک دمک کے لالچ نے بہت سے گھر اجاڑے لیکن انسان اس ازلی دشمن کے وسوسوں کا شکار ہوتا چلا گیا۔
آج جب دنیا خوراک کے نام پر مختلف کیمیاوی اجزاء اور خفیہ اشاروں کے ذریعے ممنوعہ اشیا ء پیٹ میں اتار رہی ہے اور مساجد میں نوجوان نسل فقہی ابہام پیدا کر کے ان اشیاء کے جواز پر بحث کر رہی ہے تو ایسی صورتحال میں بزرگوں کو دقیانوسی سمجھ لیا جاتا ہے۔ وہ بزرگ جو اپنی عمر بھر کی جمع پونجی قومی بچت کے مراکز میں رکھ کر حاصل شدہ اضافے کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں، ان کا حال سب سے زیادہ قابلِ رحم ہے کیونکہ وہ اپنی اولاد کو حلال کھلا کر بھی آج اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرتی بگاڑ کا شکار ہو چکے ہیں جو بہت باریکی سے ہمارے گھروں میں داخل کر دیا گیا ہے۔ اس کے اسباب جان کر انہیں دور کرنا اور شرعی حدود کی پابندی کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ اگر ہم اپنی ذات اور اپنے گھر سے تبدیلی کا آغاز کریں تو ایک دہائی بعد معاشرے کا منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
آج ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے، مفاد پرستی میں رشتوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے اور حق کو دبا کر ظلم کی بنیادوں پر جدید غلامی مسلط کی جا رہی ہے۔ سمجھدار انسان اپنی عزت بچانے کی خاطر خاموش ہے کیونکہ بولنے پر اس کے الفاظ کا غلط مطلب لیا جاتا ہے۔ اب تبدیلی کی تمام ذمہ داری صرف علماء یا مذہبی مراکز پر ڈالنے کے بجائے ہر فرد کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم دوسروں کا کام سنوار نہیں سکتے تو کم از کم بگاڑیں بھی نہیں۔ مصطفیٰ مجاہد ایڈوکیٹ کے مطابق شیطانی نظام دراصل حکمِ الٰہی کی نافرمانی پر مبنی ہے جس کا مقصد انسانیت کو مفاد پرستی کی راہ پر ڈال کر جان، مال اور عزت کو پامال کرنا ہے۔ یہ نظام انسانوں کو مصنوعی شناختوں، مفادی آئین اور عہدوں کے لالچ میں تقسیم کر کے اللہ کی اطاعت سے دور کرتا ہے۔ شیطانی نظام اپنی سرپرستی میں ایک ایسا مذہب بھی تشکیل دیتا ہے جہاں لوگ ذکر و اذکار اور ظاہری عبادات میں تو مصروف رہیں مگر حقیقی فرمانبرداری سے دور رہیں۔ انسانیت کے لیے نجات کا راستہ صرف یہی ہے کہ وہ اس شیطانی نظام سے لاتعلقی اختیار کر کے اسلامی نظام کو اپنائے جو اللہ کی مشیت اور اسوہ رسول پر مبنی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو فتنوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں حق کا ساتھ دینے والا بنائے۔ ہمیں کربلا کے ان بہتر عظیم اصحاب کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here