بدلتا موسم!!!

0
28
رعنا کوثر
رعنا کوثر

بدلتا موسم!!!

موسم سرما اب رخصت ہونے کو ہے اور چند ہی ہفتوں میں دھوپ کی تپش میں اضافہ ہو جائے گا۔ اگرچہ نیویارک تاحال سردی کی لپیٹ میں ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں گرمی کا آغاز ہو چکا ہے مگر یہاں اب بھی لوگ گرم ملبوسات پہن کر باہر نکل رہے ہیں۔ طویل سردیوں کے بعد جب یہ موسم گزرتا ہے اور ہم باہر نکل کر رنگ برنگے پھولوں اور پودوں کا نظارہ کرتے ہیں تو طبیعت میں بشاشت آ جاتی ہے۔ پارکوں میں ہری بھری گھاس پر چہل قدمی کرنا، پرندوں کی چہچہاہٹ سننا اور آسمان پر تیرتے نیلے اور سفید بادلوں کا مشاہدہ کرنا ایک سحر انگیز تجربہ ہوتا ہے۔ کبھی ہلکی بارش اور کبھی اچانک نکل آنے والی دھوپ دل کو خوشی کے احساس سے بھر دیتی ہے۔ ہر قدم پر بکھری ہریالی، فضا میں رچی پھولوں کی مہک اور تازہ ہوا نیویارک کے باسیوں کے مزاج اور موڈ کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ لوگوں کے چہروں پر عیاں خوشی اور اطمینان دراصل بدلتے موسم کا ہی کرشمہ ہے کیونکہ موسم کی تبدیلی انسان کے داخلی احساسات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
سردی، بہار، گرمی اور خزاں قدرت کے وہ انمول تحفے ہیں جو انسانی زندگی کی رعنائی کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں۔ اگر ہم قدرت کے ان عطیات کی قدر کریں تو صحت کے بہترین اصول وضع کیے جا سکتے ہیں۔ نیویارک میں سردی کا موسم انتہائی شدید ہوتا ہے لیکن اس دوران اپنی صحت کا خاص خیال رکھ کر ایک توانا زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر باہر چہل قدمی ممکن نہ ہو تو گھر کے اندر ہی ورزش کو معمول بنانا چاہیے۔ شہد ایک بہترین غذا ہے جس کا صبح سویرے استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح گوشت، مرغی اور سبزیوں کا سوپ سردی کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ چونکہ اس موسم میں دھوپ کی تمازت زیادہ نہیں ہوتی اس لیے باہر چلنا پھرنا تھکاوٹ کا باعث نہیں بنتا بلکہ خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔
سردی کے اختتام پر جب بہار دستک دیتی ہے تو انسانی دل جھوم اٹھتا ہے۔ ایسے میں گھر کے کاموں اور ملازمت کی مصروفیات سے وقت نکال کر پارکوں کا رخ کرنا ذہنی دباؤ کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ بنتا ہے۔ بہار کے موسم میں قدرت اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ درختوں پر پھوٹتی ننھی کونپلیں، گلابی پھول، دوڑتی بھاگتی گلہریاں اور پرندوں کے شیریں نغمے روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ ہوا کی لطافت اور دھوپ کی نرمی اس موسم کو اپنے آپ کو تروتازہ کرنے کے لیے بہترین وقت بنا دیتی ہے۔ بہار کے بعد موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے جس میں سورج کی حدت تھوڑی پریشانی تو پیدا کرتی ہے مگر شامیں اور راتیں انتہائی دلکش ہوتی ہیں۔ اس موسم میں دودھ کی لسی اور لیموں کے شربت سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ نیویارک میں جن لوگوں کے گھروں کے صحن وسیع ہیں وہ وہاں بار بی کیو کا اہتمام کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ پارکوں میں جا کر اہل خانہ کے ساتھ مرغی کے روسٹ اور برگر بنا کر خوشیاں بانٹتے ہیں۔
موسم گرما دراصل خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ بچوں کے اسکولوں کی تعطیلات اور کالجوں کے امتحانات سے فراغت کے بعد والدین کی شامیں بچوں کے ساتھ خوش و خرم گزرتی ہیں۔ آئس کریم کے مزے اور میلوں کا انعقاد نیویارک کے لوگوں کو پرجوش رکھتا ہے۔ اس کے بعد خزاں کا مہینہ آتا ہے جس کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ ہلکی سردی کی دستک اور گرتے ہوئے زرد پتوں کا نظارہ ایک الگ ہی منظر پیش کرتا ہے۔ گھروں کے سامنے سوکھے پتوں کے ڈھیر اس موسم کی انفرادیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر موسم اپنے ساتھ زندگی کی نئی نوید لے کر آتا ہے۔ موسموں کی یہ تبدیلی ہمیں زندگی کی یکسانیت سے بچاتی ہے اور ہر بدلتا ہوا موسم ہمیں زندگی کے نئے رنگوں سے روشناس کراتا ہے اس لیے ہمیں ہر موسم کی بھرپور قدر کرنی چاہیے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here