25اپریل کی شب رات کے ساڑھے آٹھ بجے جب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وہائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کا سالانہ ڈنر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاری تھا، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ تقریب خوف و ہراس کی تصویر بن جائے گی۔ مائیکل گلینٹز نامی ایک با صلاحیت صحافی کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے زیادہ ان کی عجیب عادات کی وجہ سے شہرت حاصل رہی ہے۔ وہ اس وقت بھی بال روم میں موجود تھے جب باہر اچانک گولی چلنے کی آواز سنائی دی اور ہال کے اندر ایک کہرام مچ گیا۔ افراتفری کے اس عالم میں جسے جہاں راستہ ملا وہ کرسیوں اور میزوں کو پھلانگتا ہوا باہر کی جانب بھاگا۔ اس بھگدڑ میں کئی افراد کی پتلونیں کرسیوں میں پھنس گئیں اور وہ منھ کے بل زمین پر گر پڑے لیکن مائیکل گلینٹز نہایت اطمینان کے ساتھ اپنا براتا سلاد کھانے میں مصروف رہے۔ وہ پہلے ہی اپنی اس عادت کی وجہ سے سلاد مین کے نام سے جانے جاتے تھے مگر اس واقعے نے انہیں عالمی سطح پر ایک منفرد شناخت دے دی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مائیکل تنہا نہیں تھے جنہوں نے خطرے کو نظر انداز کر کے کھانے کو ترجیح دی۔ سی این این سے وابستہ ایرک ہال کے ساتھیوں نے انہیں گھسیٹ کر باہر لے جانے کی کوشش کی تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہ ہلے۔ ان کی تمام تر توجہ کیک کا مزا لینے پر مرکوز تھی اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کو صاف جواب دے دیا کہ جب تک وہ اپنا کیک ختم نہیں کر لیتے، وہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف بی آئی کے اہلکار بار بار ان کے قریب آکر جائزہ لیتے رہے کہ آیا وہ اب بھی کیک کھا رہے ہیں یا کسی گولی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح اے بی سی کے نمائندے جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، گولی کی آواز سنتے ہی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ وہ اس وقت بیف اسٹیک چبا رہے تھے جو اچانک گلے میں پھنس گیا اور ان کا دم گھٹنے لگا۔ ان کی اہلیہ نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی جس سے ان کی جان بچ پائی۔ این بی سی کے ایک کیمرہ مین نے بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی تنبیہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا سوڈا ختم کرنے پر اصرار کیا اور کہا کہ وہ اپنا مشروب مکمل کیے بغیر محفوظ مقام پر منتقل نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس سی بی ایس کے ایک بھاری بھرکم نامہ نگار جن کا وزن تین سو پونڈ سے زائد تھا، فرش پر گرے مدد کے لیے پکارتے رہے مگر وہاں موجود ایک شخص نے ان کی سیاسی وابستگی اور شر انگیز خبروں کا حوالہ دے کر ان کی مدد کرنے سے گریز کیا۔
اس واقعے کے بعد کئی نامہ نگاروں کو جان بچانے کے لیے کافی دیر تک فرش پر لیٹنا پڑا اور جب حالات کچھ معمول پر آئے تو کھانے کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ نتیجے کے طور پر ان معزز مہمانوں کو اپنے قیمتی لباس یعنی ٹاکسیڈو میں ہی قریبی میکڈونالڈ جا کر اپنی بھوک مٹانی پڑی۔ ہلٹن ہوٹل کی اس واردات نے شرکاء کے ذہنوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اسی دوران سیاسی منظر نامے پر بھی ہلچل مچ گئی کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی کے خلاف دوسری مرتبہ فرد جرم عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس سے قبل جیمز کومی پر کانگریس کے سامنے غلط بیانی اور کارروائی میں مداخلت کے الزامات تھے جنہیں ڈسٹرکٹ جج کیمرون میکگووان نے قانونی تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیا تھا۔
دوسری مرتبہ جیمز کومی پر فرد جرم اپریل 2026 میں عائد کی گئی جس کی بنیاد سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر ان کی ایک تصویر بنی۔ اس تصویر میں ساحل سمندر پر آٹھ ہزار چھ سو سینتالیس سیپیاں ایک خاص ترتیب سے دکھائی گئی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ان اعداد یعنی 8647 کو ایک خفیہ کوڈ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 86 کا مطلب کسی کو ختم کرنا ہے اور 47 سے مراد سینتالیسویں امریکی صدر یعنی ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسے اپنی جان لینے کی سازش قرار دیتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ دوسری جانب سابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے معروف ٹی وی میزبان جمی کیمل کے شو کو منسوخ کر دیا اور میزبان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں دماغی طور پر مفلوج قرار دیا۔ یہ غصہ اس وقت پیدا ہوا جب جمی کیمل نے پروگرام کے دوران میلانیا کا تعارف ایک متوقع بیوہ کے طور پر کرایا تھا۔
امریکا میں جرائم اور سیاسی تشدد کے واقعات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک تین مرتبہ قاتلانہ حملوں کا ہدف بن چکے ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد اب عوامی مقامات پر ان کے ساتھ نکلنے سے کتراتے ہیں۔ صرف دو ماہ قبل فروری کے مہینے میں صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ مار اے لاگو کے باہر ایک مسلح نوجوان نے اپنی گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرا دی تھی جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اس حملہ آور کی شناخت آسٹین ٹکر کے نام سے ہوئی تھی۔ اسی طرح نامہ نگاروں کے ڈنر میں موجود مسز کرک بھی ان تلخ یادوں کے ساتھ شریک تھیں جن کے شوہر چارلی کرک کو سات ماہ قبل ایک عوامی جلسے کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ تشدد کی یہ لہر اب امریکی سماج اور سیاست کا ایک ہولناک حصہ بنتی جا رہی ہے جس نے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ بااثر شخصیات کو بھی عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ آج کا صحافی ہو یا سیاست دان، وہ ایک ایسے ماحول میں سانس لے رہا ہے جہاں تفریح کی ایک تقریب کسی بھی وقت المیے میں بدل سکتی ہے اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک سادہ سی تصویر کسی بڑے قانونی تنازعے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔













