فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہما السلام کی قربانیوں کے تذکرے تاریخ کے اوراق میں جابجا ملتے ہیں۔ یہ مناظر اس قدر ایمان افروز ہیں کہ ایک جلیل القدر باپ اپنے حسین و جمیل اکلوتے بیٹے کو اللہ کی رضا کی خاطر ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور اپنی طرف سے اس حکم کی تکمیل کر گزرتا ہے۔ دوسری جانب فرزندِ ارجمند نے بھی اطاعت کی ایسی مثال قائم کی کہ اللہ کی خوشنودی کی خاطر تمام بشری خیالات کو بالائے طاق رکھ کر خود کو باپ کی چھری کے نیچے دے دیا۔
آج بھی ہو اگر ابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک دن سحر کے وقت بڑے رقت انگیز کیف کے ساتھ رب کے حضور دعا مانگی کہ پروردگار مجھے نیکوکار فرزند عطا فرما۔ لبِ خلیل سے نکلی یہ دعا فوراً بارگاہِ ایزدی میں شرفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی اور عالمِ قدس سے یہ مڑدہ سنایا گیا کہ ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔ کچھ عرصہ بعد ایک سہانی صبح نسیمِ صبا نے کائنات کو یہ مڑدہ سنایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر جگر گوشہ خلیل حضرت اسماعیل علیہ السلام پردہ غیب سے اس خاکدانِ گیتی پر جلوہ افروز ہوئے ہیں۔
ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش
شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا
ملک شام کا وہ سرسبز و شاداب علاقہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام قیام پذیر تھے، ابھی ولادت کے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ہاتفِ غیب کے اشارے پر آپ اپنی رفیقہ حیات حضرت ہاجرہ اور شیر خوار صاحبزادے حضرت اسماعیل کو ہمراہ لے کر ایک طویل سفر پر روانہ ہو گئے۔ تین افراد پر مشتمل یہ نورانی قافلہ شب و روز مسافت طے کرنے کے بعد پہاڑیوں کے ایک وسیع دامن میں پہنچ کر ٹھہر گیا۔
کہتے ہیں جس کو زخم محبت کچھ اور ہے
کہنے کو یوں تو گل کا بھی سینہ فگار ہے
اس مقام سے کچھ ہی فاصلے پر ٹوٹی ہوئی دیواروں کے قدیم نشانات نمایاں تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرطِ ادب سے سر جھکا دیا اور اپنی رفیقہ حیات سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ دیکھو روئے زمین پر یہی خدائے ذوالجلال کا محترم گھر ہے، یہی کائناتِ ارضی کا مرکزِ تعظیم اور ابنِ آدم کی پیشانیوں کی سجدہ گاہ ہے، اور یہی ہمارے سفر کی آخری منزل ہے۔ اس وقت ان کی آنکھیں نمناک تھیں اور دل ماضی کی یادوں سے لبریز تھا۔
گزار تھا اس مقام سے اک کارواں کبھی
اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے انتہائی عجز و نیاز کے ساتھ ان شکستہ دیواروں کے سامنے ہاتھ اٹھا کر یہ رقت انگیز دعا مانگی کہ اے پروردگار میں تیرے محترم گھر کے قریب اس بے آب و گیاہ وادی میں اپنا کنبہ آباد کر رہا ہوں تاکہ یہ نمازیں قائم کریں اور تیرے گھر کو سجدوں سے بسائیں، پس تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا کر تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔
شوق بقائے درد کی ہیں ساری خاطریں
ورنہ دعا سے اور کوئی مدعا نہیں
برستی آنکھوں کے ساتھ یہ دعا مانگنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنا سارا کنبہ خدا کے سپرد کر کے واپس چلے گئے۔ ایک لق و دق صحرا، تپتے ہوئے کہسار اور اسبابِ زندگی سے خالی وادی میں اپنے معصوم بچے کو تنہا چھوڑ جانا صرف اسی شخصیت کا منصب ہو سکتا ہے جو خدا کی قدرت پر کامل اعتماد رکھتی ہو۔ ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام بادیدہ پرنم رخصت ہوئے اور ادھر خدائے کارساز نے غیبی تائید کے دروازے کھول دیئے جس کے نتیجے میں ریگزار کے سینے سے زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس خاموش وادی کو آباد کرنے کا انتظام یوں ہوا کہ قبیلہ بنی جرہم کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا اور اس چشمہ جاریہ کے کنارے خیمہ زن ہو گیا، جس سے چند ہی دنوں میں وہاں ایک جیتا جاگتا شہر بس گیا۔
ساری رونق ہے یہ دیوانوں کے دم کی آتش
طوق وزنجیر سے ہوتا نہیں زنداں آباد
حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی شفیق ماں کی گود میں پروان چڑھتے رہے اور جب عنفوانِ شباب کی منزل میں قدم رکھا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام دوبارہ وہاں تشریف لائے اور وہیں بود و باش اختیار کر لی۔ ایک خوشگوار صبح جب آسمانی ہدایت کا نزول ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر کو پاس بلا کر بڑے پیار سے فرمایا کہ اے میرے لاڈلے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس ارجمند بیٹے نے نہایت خندہ پیشانی سے جواب دیا کہ اے میرے شفیق باپ آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے اسے بلا کسی پس و پیش کے کر گزریئے، ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ اس جواب نے ثابت کر دیا کہ اطاعت و تسلیم کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنا ہی اصل بندگی ہے۔
غم سلامت تیرے انداز پر مرنے والے
موت کا بھی کہیں احسان لیا کرتے ہیں
اس عظیم امتحان کے موقع پر باپ اور بیٹا دونوں اللہ کی رضا پر راضی ہو گئے اور تاریخِ انسانی کے اس بے مثال واقعے نے رہتی دنیا تک کے لیے ایثار و قربانی کی ایک لازوال داستان رقم کر دی۔(جاری ہے)
٭٭٭٭٭٭













