نو مئی کے واقعات پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ باب ہیں۔ لاہور کے جناح ہاؤس سمیت مختلف مقامات پر ہونے والی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور قیمتی جانوں و املاک کا ضیاع ایک ایسا سانحہ ہے جس پر سنجیدہ، غیر جانبدار اور دیانتدارانہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ذمہ داری کے تعین سے پہلے یہ سوال اہم ہے کہ ان واقعات سے کس کو فائدہ پہنچا، مگر اس سوال کا جواب جذبات یا قیاس آرائی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے کے بعد ملک کی سیاست کا رخ بدلتا ہوا محسوس ہوا۔ ایک ایسی گرفتاری جو کبھی ناقابل تصور سمجھی جاتی تھی وہ نہ صرف ممکن ہوئی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ عوامی ردعمل میں بھی واضح کمی نظر آئی اور آج اسیری کے اس سلسلے کو ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔
سیاسی تحریکیں اکثر اپنے عروج اور زوال کے مراحل سے گزرتی ہیں اور کارکنوں کا جذبہ حالات کے جبر کے تحت کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس عمل میں قیادت، تنظیمی حکمت عملی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ عمران خان کی شخصیت سے اس حد تک انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی شعور دیا اور انہیں متحرک کیا، تاہم یہ پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کسی بھی تحریک کی پائیداری صرف ایک فرد واحد پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی مضبوطی، آئینی راستوں اور پرامن جدوجہد پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر کارکن کٹھن حالات میں ویسی استقامت کا مظاہرہ نہ کر سکیں تو تحریک تدریجی طور پر کمزور پڑ جاتی ہے اور یہ تاریخ کا ایک ثابت شدہ اصول ہے۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون جیتا یا کون ہارا بلکہ بنیادی فکر یہ ہے کہ ملک کس سمت میں جا رہا ہے۔ کیا ہمارے ریاستی ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں؟ کیا عدالتیں عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے میں کامیاب ہیں اور کیا سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے کا کلچر باقی ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات کے بغیر کسی بھی معاشرے میں استحکام ممکن نہیں ہو سکتا۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ تشدد، توڑ پھوڑ یا ریاستی املاک کو نقصان پہنچانا کسی بھی مقصد کے حصول کا جائز یا مؤثر ذریعہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ ایسے اقدامات نہ صرف قانونی طور پر ناقابل قبول ہیں بلکہ معاشرے کو مزید تقسیم اور عدم استحکام کی طرف دھکیلتے ہیں۔
دنیا بھر کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ سیاسی عمل، عوامی دباؤ اور آئینی جدوجہد کے ذریعے ہی آتی ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندی کا راستہ اپنایا جائے۔ اختلاف رائے بلاشبہ جمہوریت کا حسن ہے مگر اس کا اظہار ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ہونا چاہیے۔ اگر موجودہ نظام میں خامیاں موجود ہیں تو ان کی اصلاح کے لیے اجتماعی، منظم اور پرامن کوششیں ہی دیرپا نتائج دے سکتی ہیں۔ آخرکار قوموں کی تقدیر جذباتی فیصلوں سے نہیں بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی، اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی سے بدلتی ہے۔ یہی راستہ مشکل ضرور ہے مگر پائیداری اور بقا کی ضمانت بھی اسی میں پنہاں ہے۔














