صحافت کا عالمی دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید کا نام ہے جو معاشرے کے باضمیر افراد اپنے قلم اور زبان کے ذریعے سچائی کے تحفظ کے لیے کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں معلومات کی فراہمی کے ذرائع میں بے پناہ وسعت آئی ہے وہیں اس مقدس پیشے کو درپیش چیلنجز بھی سنگین تر ہو گئے ہیں۔ ایک کالم نگار کی حیثیت سے جب ہم عالمی سطح پر صحافتی منظرنامے کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حق گوئی کی پاداش میں دی جانے والی قربانیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ سال 2026 میں بھی دنیا کے کئی خطوں میں قلم کاروں کو خاموش کرانے کے لیے جبر و استبداد کے پرانے حربے آزمائے جا رہے ہیں جبکہ تکنیکی ترقی نے نگرانی اور سنسرشپ کے نئے اور پوشیدہ طریقے متعارف کروا دئیے ہیں۔ صحافت دراصل کسی بھی معاشرے کی وہ آنکھ ہوتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی ناانصافیوں پر نظر رکھتی ہے اور وہ زبان بنتی ہے جو محروم طبقات کے دکھوں کو بیان کرتی ہے۔ اگر یہ آنکھ بصارت کھو دے یا یہ زبان مصلحتوں کا شکار ہو جائے تو پورا سماج اندھیروں کی نذر ہو جاتا ہے۔
آج کے دن ہمیں ان گمنام صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے جنہوں نے جنگ زدہ علاقوں، قدرتی آفات اور سنگین تنازعات کے دوران اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دنیا تک حقائق پہنچائے۔ صحافت کا جوہر اس کی غیر جانبداری اور دیانت داری میں پنہاں ہے لیکن بدقسمتی سے معاشی مفادات اور سیاسی وابستگیوں نے اس آئینے کو دھندلا دیا ہے۔ جب ابلاغ عامہ کے ادارے محض تجارتی مراکز میں تبدیل ہو جائیں اور خبر کی جگہ اشتہار نما مواد غالب آ جائے تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔ اس عالمی دن کے موقع پر یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا ہم نے معلومات کی بھرمار میں سچ کی پہچان کھو دی ہے۔ جھوٹی خبروں کی ترویج اور من گھڑت بیانیوں نے رائے عامہ کو پراگندہ کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ صحافت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے۔ ایک پیشہ ور صحافی کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ کسی بھی اطلاع کو پھیلانے سے قبل اس کی تصدیق کے تمام مراحل سے گزرے تاکہ معاشرے میں ہیجان کے بجائے شعور بیدار ہو۔
تحفظِ صحافت کا مفہوم صرف جسمانی سلامتی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ذہنی آزادی اور معاشی استحکام بھی شامل ہے۔ جب کسی صحافی کو بیروزگاری کا خوف ہو یا اس کے قلم پر پابندیوں کی تلوار لٹک رہی ہو تو وہ کبھی بھی آزادانہ طور پر اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا۔ ریاستوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے قوانین وضع کریں جو صحافیوں کو بلا خوف و خطر کام کرنے کا ماحول فراہم کریں اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ دوسری جانب صحافتی تنظیموں کو بھی اپنے اندرونی احتساب کا نظام وضع کرنا چاہیے تاکہ اس لبادے میں چھپے کالی بھیڑوں کا راستہ روکا جا سکے۔ صحافت ایک ایسا پل ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے اور اگر یہ پل کمزور ہو جائے تو جمہوریت کی عمارت لڑکھڑانے لگتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک آزاد پریس کے بغیر کسی بھی مہذب معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ صحافت کا عالمی دن ہمیں اس ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے کہ حق کی آواز کو دبنے نہیں دینا چاہیے۔ یہ دن تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان تمام زنجیروں کو توڑ دیں جو سچائی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چاہے وہ معاشی دباؤ ہو، سیاسی اثر و رسوخ ہو یا انتہا پسندانہ نظریات، صحافت کو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہونا چاہیے۔ قلم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اسے صرف اور صرف انصاف کے حصول اور انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر ہم آج اپنے قلم کی آبرو بچانے میں کامیاب ہو گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک روشن اور شفاف معاشرہ دینے پر یاد رکھیں گی۔ سچائی کا راستہ کٹھن ضرور ہے لیکن یہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی قوم کی بقا اور وقار کی ضمانت دیتا ہے۔

















