اسلام آباد (پاکستان نیوز)پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے کلیدی کردار نے ہمسایہ ملک ہندوستان کو شدید تشویش اور سفارتی تنہائی میں مبتلا کر دیا ہے جس کی گونج اب عالمی سطح پر سنائی دے رہی ہے۔ ایک اہم پیش رفت کے طور پر ایرانی عسکری قیادت کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ پاکستان نے تہران کو اس بات کا بھروسہ دلایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی قسم کی جارحیت نہیں ہونے دی جائے گی۔ ایرانی جنرل کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملے کی ہمت کی تو ایسی صورت میں پاکستان خاموش تماشائی رہنے کے بجائے اسرائیل کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرے گا جس سے خطے میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان کے اس جرات مندانہ اور غیر مبہم موقف نے نہ صرف ایران کا اعتماد جیتا ہے بلکہ اس نے بھارت کی ان کوششوں کو بھی ناکام بنا دیا ہے جو وہ پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے عرصے سے کر رہا تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ براہ راست رابطے اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تہران کے ساتھ مسلسل بات چیت نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اب مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک مضبوط دفاعی اور سفارتی حصار بن چکا ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی علاقائی سطح پر متحرک شٹل ڈپلومیسی نے بھارت کی کمزور ہوتی سفارتی پوزیشن کو مزید بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ عالمی طاقتیں اب بھارت کے بجائے اسلام آباد کو امن و مفاہمت کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ پاکستان کی اس اسٹریٹجک برتری اور ایران کو فراہم کردہ دفاعی ضمانتوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کا محافظ ہے بلکہ وہ مسلم امہ اور علاقائی استحکام کے لیے کسی بھی بڑی طاقت کے سامنے ڈٹ جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ان حالات میں اسلام آباد کا ابھرتا ہوا کردار بھارتی پروپیگنڈے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ثابت ہوا ہے اور پاکستان کا پرچم عالمی سطح پر امن اور طاقت کی علامت بن کر لہرا رہا ہے۔











