ساتویں جماعت کی تاریخ کا موضوع ہنیبال کی اٹلی پر یلغار تھا جبکہ سائنس کی کلاس میں ایک استاد چاک بورڈ کو صاف کرنیوالے ڈسٹر کو فرش پر گرا کر کشش زمین کا نظریہ ثابت کر رہا تھا۔ اسکول کے اندرونی حصے میں درجنوں تیسری جماعت کے طالب علم اسلامی تعلیمات کے کلمات یاد کر رہے تھے۔ اسلامک اکیڈمی آف الاباما گزشتہ تین دہائیوں سے برمنگھم کے نواحی علاقے کی اسی عمارت میں قائم ہے اور یہ اسکول ریاست الاباما کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں بارہویں جماعت کے نتائج اور کالجوں میں داخلے کی شرح سو فیصد کے قریب ہے۔ یہ اکیڈمی اسی کیمپس میں واقع ہے جہاں سن انیس سو تیس میں سیاہ فام بچوں کے دو اسکولوں کو KKKKشرپسندوں نے جلا کر راکھ کر دیا تھا لیکن خوش قسمتی سے اسلامک اکیڈمی تاحال کسی تنازع کا شکار نہیں ہوئی۔ تاہم گزشتہ سال موسم گرما میں جب اسکول انتظامیہ نے اپنے دو سو ستر بچوں کے لیے ہوور کمیونٹی کے درمیان ایک عمارت تلاش کی تو مقامی آبادی کا ردعمل انتہائی افسوسناک رہا۔ برمنگھم رائٹ ونگ پوڈ کاسٹ کے میزبان اور ایک مقامی اخبار کے سربراہ برائن ڈاسن نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ علم تک نہ تھا کہ یہ لوگ یہاں رہتے ہیں اور اب ایک نئی عمارت میں منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ ہوور کمیونٹی کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئی جس کے بعد برائن ڈاسن نے اسکول کی منتقلی کے خلاف تحریک شروع کر دی اور مقامی حکام نے ووٹ کے ذریعے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ اس صورتحال میں ریاست الاباما کے سینیٹر ٹامی ٹیوبر ویل نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور بیان دیا کہ اسلامک اسکول کے لیے ریاست کی حدود سے باہر ہی جگہ مل سکتی ہے کیونکہ ایسے عقیدے کے لیے ان کی ریاست میں کوئی جگہ نہیں ہے۔برمنگھم اسکول کے منصوبے کا ختم ہونا دراصل اسلام مخالف جذبات اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی اس لہر کا شاخسانہ ہے جو امریکہ کے بنیاد پرست حلقوں اور ریپبلکن پارٹی کے اراکین میں سرایت کر چکی ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے بھی اپنے پہلے دور اقتدار کے مسلم پابندی کے نعرے کو دہرایا اور صومالیہ کے مسلمانوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے دو مسلمان ڈیموکریٹ ارکان پارلیمان الہان عمر اور راشدہ طلیب کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کی بات کی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان دو درجن سے زائد ممالک کے شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرائ پر بھی پابندیاں عائد کیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ تاہم دائیں بازو کے تمام سیاستدان یا دانشور مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں جن میں ٹکر کارلسن نمایاں ہیں۔ انہوں نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کی اکثریت بری نہیں ہوتی بلکہ ان کے خلاف نفرت کا جذبہ برا ہے۔ ٹکر کارلسن نے ایک انٹرویو میں مزید واضح کیا کہ جو شخص دن میں پانچ مرتبہ خدا کے سامنے سر بسجود ہوتا ہے وہ ان کا دشمن نہیں ہو سکتا اور یہ لوگ امریکہ میں منشیات کی لت یا بے گھری جیسے مسائل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس کے برعکس فلوریڈا کے کانگریس مین مسٹر فائن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹکر کارلسن ایک نئے مذہبی پیشوا بننے جا رہے ہیں۔
اوکلاہوما کے شہر تْلسا میں بھی مسلمانوں کی جانب سے پندرہ ایکڑ پر اسلامک سینٹر کی تجویز مقامی رہنماؤں اور رہائشیوں کے احتجاج کی نذر ہو گئی۔ سابق اسٹیٹ ہاؤس اسپیکر ٹی ڈبلیو شانن نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اوکلاہوما کو ایسے لیڈرواں کی ضرورت ہے جو شرپسندوں کے خلاف ڈٹ سکیں۔ ریاست ٹیکساس میں جہاں مختلف رنگ و نسل کے افراد بستے ہیں وہاں مسجد کی توسیع کی اجازت پر شدید ردعمل سامنے آیا اور ایک قدامت پسند گروپ کے رہنما نے اسے تمام ٹیکسنز کے لیے ایک دھماکہ خیز انتباہ قرار دیا۔ ریاست جارجیا میں جہاں مسلمانوں کی آبادی دو فیصد سے بھی کم ہے وہاں کے لیفٹیننٹ گورنر کے امیدوار گریگ ڈولزل نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک اشتہار شائع کیا جس میں دکھایا گیا کہ شدت پسند دیہی علاقوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ اس اشتہار میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن کا سقوط ہو چکا ہے اور یورپ پر قبضہ جاری ہے جبکہ امریکہ میں تارکین وطن ملکی فراخدلی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ گریگ ڈولزل نے عہد کیا کہ وہ جارجیا کو محفوظ اور شریعت سے آزاد رکھیں گے۔ فلوریڈا سے ریپبلکن پارٹی کے رکن پارلیمان رینڈی فائن نے بھی مسلمانوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور ماضی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اسلام سے خوفزدہ ہونا غیر منطقی نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول حقیقت میں بہت سے مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں۔













