آدابِ محفل اور سماجی رویے!!!

0
5
رعنا کوثر
رعنا کوثر

آدابِ محفل
اور سماجی رویے!!!

رمضان المبارک اور عیدین کے مواقع پر یہ مشاہدہ عام ہے کہ دیارِ غیر میں مقیم پاک و ہند کے باسی اپنے وطن سے دوری کے باعث ایک دوسرے کے بہت قریب آ جاتے ہیں۔ ملنے جلنے کے مواقع، دعوتوں کا اہتمام اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرکت کا جذبہ وہاں بہت شدت اور محبت سے پایا جاتا ہے۔ تاہم اس میل جول میں جہاں بے پناہ اپنائیت دکھائی دیتی ہے، وہیں بعض اوقات حسد اور جلن کے منفی جذبات بھی سر اٹھانے لگتے ہیں۔ ان ناخوشگوار حالات کی وجہ سے کچھ لوگ بددل ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں اور دوسروں سے ملنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کے بچے بھی ان رویوں سے متاثر ہوتے ہیں اور اکثر اپنے والدین کے دوستوں اور اپنی ہی برادری کے لوگوں سے متنفر ہو کر ان سے دور رہنے لگتے ہیں۔ اس طرح یہ سماجی تعلقات خوشیاں لانے کے بجائے دلوں میں بلاوجہ کی کدورتیں پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ہم ملاقات کے بنیادی آداب پر غور کریں۔ملاقات کا پہلا قرینہ یہ ہے کہ آنے والے کا استقبال مسکراتے چہرے، خلوص اور محبت کے ساتھ کیا جائے اور سلام میں ہمیشہ پہل کی جائے۔ کسی کے ہاں جاتے وقت صاف ستھرا لباس پہننا خوش آئند ہے مگر اس کے پیچھے دوسروں پر رعب جمانے یا اپنی امارت کی نمائش کا جذبہ کارفرما نہیں ہونا چاہیے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ محفلیں فیشن شو کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، حالانکہ انسان کو تصنع اور بناوٹ سے پاک ہو کر دوسروں سے ملنا چاہیے۔ اگر گفتگو میں مقصدیت اور سادگی نہ ہو تو یہی میل جول بوجھ بننے لگتا ہے۔ کسی کے گھر جاتے وقت مناسب تحفہ لے جانا ایک اچھی روایت ہے بشرطیکہ یہ عمل صرف محبت کے اظہار کے لیے ہو، نہ کہ اپنی دولت کی نمائش یا پندار کے لیے۔ آپس میں تعلقات بڑھانا اور ایک دوسرے کے کام آنا نہایت پسندیدہ عمل ہے، لیکن ایک مومن کا میل جول ہمیشہ بلند مقاصد کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ صرف ہلے گلے اور بے مقصد شور و غل کے لیے، کیونکہ حد سے زیادہ لایعنی سرگرمیاں دلوں کو بوجھل کر دیتی ہیں۔ایک مہذب محفل کا خاصہ یہ ہے کہ وہاں موجود تمام افراد کو یکساں اہمیت دی جائے۔ چند مخصوص لوگوں سے گفتگو کرنا یا کسی کی امارت، بڑے گھر اور قیمتی فیشن کی وجہ سے اسے غیر معمولی پروٹوکول دینا دوسرے شرکا کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے۔ ایسے امتیازی سلوک کی وجہ سے لوگ محفلوں سے بدظن ہو کر دوبارہ وہاں آنے سے کتراتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہم نے ان اعلیٰ آداب کو فراموش کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری محفلیں وقتی رونق کے بعد اجڑ جاتی ہیں اور لوگ رخصت ہوتے ہی ایک دوسرے کی برائی اور غیبت شروع کر دیتے ہیں۔ ان خرابیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر ملاقات کی بنیاد خدا کی یاد اور مخلصانہ محبت پر رکھیں اور ہر قسم کی نمائش سے پرہیز کریں۔
اس ضمن میں نئی نسل کی تربیت پر توجہ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عموماً دعوتوں کے دوران بچوں کو الگ کمروں میں بٹھا کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ بڑے اپنی محفلوں میں دیسی کھانوں، ڈراموں، سیاست اور فیشن پر گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کو اپنی محفلوں میں شامل کریں، انہیں بڑوں کے ساتھ بٹھائیں اور گفتگو میں شریک کریں تاکہ وہ اپنے والدین کے دوستوں اور اپنی تہذیب کو پہچان سکیں اور ان کے دلوں میں اپنے ہم وطنوں کے لیے احترام پیدا ہو۔ حقیقت یہی ہے کہ بہت بڑے اور بے مقصد گروہ بنانے سے چند مخلص اور باکردار دوست بہتر ہوتے ہیں جو زندگی میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here