عید الفطر گزرگئی تاہم انفرادی و اجتماعی طور پر اس کی خوشیاں تا ہنوز جاری ہیں۔ امت مسلمہ کیلئے رب تعالیٰ کی جانب سے ماہ رمضان کی عبادات کی ادائیگی، نفس کی آزمائش اور امت مسلمہ کے معبود برحق کی حقانیت پر ایمان کا تحفہ ہے۔ یہ وہ فرض مبین ہے جس کا صلہ ہر مومن کو لازماً ملنا اور عالم اسلام کی اجتماعیت کا مظہر ہے، افسوس کہ یہود و ہنود اور مسلم دشمن قوتیں اپنے ناپاک عزائم اور مقاصد کیلئے ہمہ وقت اپنے مشن پر فعال رہتی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو زک پہنچائی جائے اور انھیں آپس میں نہ صرف بلکہ عصبیت، فرقہ واریت اور کسی نہ کسی بنیاد پر نفرت کی آگ میں مبتلا رکھا جائے افسوس یہ ہے کہ اسلام دشمنوں کے اس کھیل میں دانستہ یا نادانستہ مسلم ممالک، سر براہان حتی کہ افراد اس سازشی کھیل کا حصہ بن جاتے ہیںبلکہ نفرت و بیر کی اس دلدل میں اس قدر دھنس جاتے ہیں جس سے نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہوتاہے اور نہ مداوا کرنے کی کوئی سبیل، البتہ دشمنی پچھتاوے اور نزاعی کیفیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ مسلم دشمن قوتوں اور اقوام کی ریشہ دو انیوں کی تاریخ تو طویل صدیوں پر محیط ہے اور اس میں خود اپنوں کا کردار بھی بہت واضح ہے تاہم اگر ہم موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اسرائیل و امریکہ کی ایران کیخلاف سازشی حرکت اس سچائی کی تصویر ہے کہ محاذ آرائی کے اس طوفان میں ڈوبنے والا ایران ہی نہیں عرب اور خلیجی ممالک بھی ہیں۔ خدشہ تو یہ بھی ہے کہ اس طوفان سے پاکستان، ترکی اور دیگر مسلم ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس جنگ کے حوالے سے جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ قارئین لمحہ بہ لمحہ واقف ہیں اور اس کے مضمرات و اثرات سے بھی آگاہ ہیں لیکن اس کے نتیجے میں مذہبی ہم آہنگی اور وحدت میں جو دراڑیں پڑ رہی ہیں وہ نہ صرف مسلم امہ میں نفاق و تقسیم کا پیش خیمہ نظر آتی ہیں بلکہ اسرائیلی منصوبے گریٹر اسرائیل کی تکمیل کیلئے بھی موافق بن سکتی ہیں۔ سیدھے لفظوں میں اسرائیل کے مسلم ممالک کی یکجائی اور اتحاد کے خاتمے کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا نظر آرہا ہے۔ ہم نے اپنے گذشتہ کالم ”ابلاغ کی روح صداقت ہے ” میں میڈیا کے اینکرز، بلاگرز یوٹیوبرز اور ایران و عرب / خلیجی عہدیداران ذمہ داران کے موجودہ صورتحال میں مسلکی اور تنقیدی حوالے سے جس تشویش و نتائج اور مضمرات کا اظہار کیا تھا وہ کیفیت گذشتہ ہفتے پاکستان کے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کے شیعہ علماء سے خطاب کی صورت میں سامنے آئی ہے، موصوف نے گلگت میں فسادات کے تناظر میں جس طرح شیعہ علماء کی ہتک کی اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دی وہ کسی بھی ذمہ دار خصوصاً سربراہ افواج کی حیثیت میں قابل تسلیم نہیں، فیلڈ مارشل کے اس ابلاغ نے نہ صرف شیعہ علماء و اکابرین بلکہ تمام علماء ومشائخ ، اکابرین اور عوام کیلئے ناگواری و ناپسندیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے مفتی اعظم تقی عثمانی نے اس مؤقف کو ملک بھر میں شیعہ سنی مسالک اور عوام میں افتراق کا خدشہ اور ملک کے اتحاد و یکجہتی میں دراڑیں ڈالنے کا سبب قرار دیا ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب کے اس اقدام سے عوام اور مکاتب فکر کا ردعمل ہی نہیں آیا بلکہ سیاسی و دانشور و علمی حلقوں میں بھی ناپسندیدگی اور غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حتیٰ کہ حکومتی حلقے و عسکری صفوں میں بھی بے چینی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بانی قائد اعظم خوجہ شیعہ تھے، تحریک پاکستان کے بیشتر رہنما اہل تشیع تھے ،آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر سر آغا خان شیعہ فرقے سے تھے حد یہ کہ موجودہ صدر زرداری بھی فقہ جعفریہ سے ہیں۔ یہی نہیں افواج پاکستان، بیوروکریسی، امن سیکورٹی، عدلیہ حتیٰ کہ پارلیمان اور معاشرے کے تمام شعبوں میں فقہ جعفریہ کے افراد و خواتین پاکستان کی بقائی سالمیت اور ترقی و خوشحالی کیلئے یکساں وفاداری کے حامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے معروضی حالات میں جب وطن عزیز بھارت، افغانستان اور دہشت گردی کے ساتھ عالمی صورتحال کی مشکلات سے متاثر ہے تو فیلڈ مارشل صاحب کو محض شیعہ علماء کا اجلاس بلانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر ملک کی سالمیت اور سانحہ گلگت کے ناطے ضرورت تھی تو تمام عقائد و فرقوں کے علماء مشائخ اور اکابرین کو دعوت دی جاتی، اصولاً یہ ذمہ داری پارلیمان اور حکومت کی ہوتی ہے، کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ حافظ صاحب کا یہ اقدام ٹرپ کی خوشنودی کیلئے تھا یا سانحہ گلگت کے رد عمل میں تھا؟ مسلم افواج کے سربراہ اور تحفظ و بقا ء کے ضامن کے طور پر یہ اقدام کسی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا نخواستہ یہ پاکستان میں شورش و بغاوت کی جانب اقدام نہ ہو، اللہ میرے وطن کو قائم و دائم رکھے۔ آمین














