پراسرار بنگلہ اور خلائی مخلوق کا راز!!!

0
2
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین، سید کاظم رضا نقوی کی جانب سے سلام قبول فرمائیے۔ یہ دنیا نت نئے اور حیرت انگیز واقعات سے بھری پڑی ہے اور موجودہ دور میں دنیا کے مختلف حصوں میں جاری ہنگامہ آرائی غیر معمولی نوعیت کی ہے، جس میں مافوق الفطرت قوتوں اور خلائی مخلوق کی مداخلت کا گمان ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں خلائی مخلوق سے منسوب ایک ایسا واقعہ پیشِ خدمت ہے جو عقل کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔رات کے نو بجے کا وقت تھا اور میں اسکول کے دفتر میں پرچے جانچنے میں مصروف تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک خوش لباس اور پروقار اجنبی شخص کھڑا تھا۔ اس نے میرا نام لے کر مخاطب کیا تو مجھے حیرت نہ ہوئی کیونکہ قصبے کے لوگ اساتذہ سے واقف ہوتے ہیں، البتہ اس وقت اس کی آمد کا مقصد میرے لیے سوالیہ نشان تھا۔ اس شخص نے انتہائی شائستہ لہجے میں اپنی بیٹی کو بارہویں جماعت کی حیاتیات اور کیمیا پڑھانے کی درخواست کی۔ مالی مشکلات کے باعث میں نے یہ پیشکش قبول کر لی مگر اپنی شرائط واضح کر دیں کہ وقت کی سختی نہیں ہوگی اور پہلے تین دن آزمائشی ہوں گے۔ اس نے رضا مندی ظاہر کی اور اگلے دن نو بجے مجھے لینے کا وعدہ کر کے رخصت ہو گیا۔
دوسری رات وہ شخص اپنی قیمتی گاڑی میں مجھے لینے آیا اور بستی سے دور ایک پرشکوہ بنگلے میں لے گیا۔ وہاں کی سجاوٹ اور مہنگا فرنیچر اس کی امارت کا پتا دے رہے تھے۔ کچھ دیر بعد اس کی بیٹی آئرہ کمرے میں آئی۔ تعارفی گفتگو کے بعد جب پڑھائی کا آغاز ہوا تو وہ طالبہ غیر معمولی ذہین ثابت ہوئی اور مشکل عنوانات کو منٹوں میں سمجھنے لگی۔ اس نے بتایا کہ اسے صرف چند مخصوص اسباق پڑھنے ہیں جس میں بمشکل دس دن لگیں گے۔دورانِ تدریس ایک رات آئرہ نے مجھ سے جنات کے وجود کے بارے میں سوال کیا۔ میرا جواب ہمیشہ کی طرح سائنسی بنیادوں پر تھا کہ جب تک میں کسی چیز کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں، اس پر یقین نہیں کرتا۔ میری اس منطق پر وہ کافی کبیدہ خاطر ہوئی اور بحث کرنے لگی کہ ہر وہ چیز جو نظر نہ آئے اس کا انکار کرنا نادانی ہے۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، اس کا لہجہ جارحانہ ہوتا گیا اور وہ اس بات پر بضد رہی کہ میں جنات کے وجود کو تسلیم کروں۔ آخری روز جب نصاب مکمل ہوا تو اس کا غصہ انتہا کو پہنچ گیا، اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور وہ مجھ سے الجھنے لگی۔ اسی اثنا میں اس کا والد کمرے میں داخل ہوا اور صورتحال سنبھالتے ہوئے معذرت کی، جس کے بعد وہ مجھے واپس اسکول چھوڑ آیا۔اگلی صبح جب میں نے اپنا بٹوہ کھولا تو اس میں تیس ہزار روپے موجود تھے، حالانکہ میری فیس کے بارے میں کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی۔ حیرت کے عالم میں جب میں اسی راستے پر دوبارہ اس مقام تک پہنچا جہاں وہ عالی شان بنگلہ واقع تھا، تو وہاں کا منظر دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔ جہاں کل تک ایک شاندار عمارت کھڑی تھی، وہاں اب برسوں پرانے کھنڈرات کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی بستیوں کے قریب ہی ایسی پراسرار مخلوقات کا بسیرا ہو سکتا ہے جن سے ہم غافل ہیں۔ دعا ہے کہ پروردگار سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here