فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ!!!
محترم قارئین نبی اکرم ۖ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جس نے قرآن مجید کی تلاوت کی پھر یہ سمجھا کہ کسی کو اس سے بھی عمدہ چیز دی گئی ہے تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی عظمت کو معمولی سمجھا ہے۔ ارشادِ نبوی کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پاس قرآن مجید سے زیادہ مرتبہ والا کوئی شفیع نہیں ہے اور ایک اور مقام پر بیان ہوا کہ میری امت کی بہترین عبادت قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ ایک اور ارشاد کے مطابق تم میں سے زیادہ بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ آپ ۖنے مزید فرمایا کہ دلوں کو زنگ اس طرح لگ جاتا ہے جیسے لوہے کو، جب عرض کیا گیا کہ اس کی چمک دمک پھر کیسے لوٹتی ہے تو آپ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ قرآنِ پاک کی تلاوت اور موت کو یاد کرنے سے دلوں کی صفائی ہوتی ہے۔حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ قرآنِ کریم کا علم رکھنے والا اسلام کا جھنڈا اٹھانے والا ہوتا ہے لہٰذا اس کیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ لہو و لعب میں مشغول لوگوں کے ساتھ مل کر وقت ضائع کرے، بھولنے والوں کے ساتھ غافل نہ ہو اور بیہودہ لوگوں کے ساتھ مل کر بیہودگی نہ کرے کیونکہ یہ عمل قرآنِ مجید کی تعظیم کے خلاف ہے۔ آپ ۖ نے مزید فرمایا کہ جو صبح کے وقت سورہ حشر کی آخری آیات کی تلاوت کرتا ہے، اگر وہ اسی دن وفات پا جائے تو اسے شہداء میں لکھا جاتا ہے اور اس پر شہیدوں کی مہر لگائی جاتی ہے جبکہ جو شخص ان آیات کو رات کی ابتدا میں تلاوت کرتا ہے اور اگر وہ اسی رات انتقال کر جائے تو اس پر بھی شہیدوں کی مہر لگائی جاتی ہے۔حضور ۖ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ اور راہِ راست کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔ نیز ارشادِ گرامی ہے کہ علمائ، انبیاء کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے وارث ہیں اور یہ ایک واضح بات ہے کہ انبیاء کرام سے بڑھ کر کسی کا مرتبہ نہیں لہٰذا ان کے وارثوں سے بڑھ کر بھی کسی وارث کا مقام نہیں ہو سکتا۔ فرمانِ نبوی ۖ کے مطابق سب لوگوں سے افضل وہ مومن عالم ہے کہ جب اس کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ نفع دے اور جب اس سے بے نیازی برتی جائے تو وہ خود بھی بے نیاز ہو جائے۔ آپ ۖ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مرتبہ نبوت سے سب سے زیادہ قریب عالم اور مجاہد ہیں کیونکہ علماء نے رسولوں علیہم الصلوٰة والسلام کے پیغامات لوگوں تک پہنچائے اور مجاہدین نے انبیاء کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے احکامات کو قوت کے ساتھ پورا کیا اور ان کی پیروی کی۔مزید ارشاد ہوا کہ پورے قبیلے کی موت ایک عالم کی موت کے مقابلے میں آسان ہے اور قیامت کے دن علماء کی سیاہی کی دواتیں شہداء کے خون کے برابر تولی جائیں گی۔ حضور ۖ کا فرمان ہے کہ عالم علم سے کبھی سیر نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ جنت میں پہنچ جائے۔ آپ ۖ نے مزید فرمایا کہ میری امت کی ہلاکت دو چیزوں یعنی علم کو چھوڑ دینے اور مال کو جمع کرنے میں ہے۔ ایک اور مقام پر ہدایت کی گئی کہ عالم بنو یا متعلم یا علمی گفتگو سننے والے یا علم سے محبت کرنے والے بنو اور پانچواں یعنی علم سے بغض رکھنے والا نہ بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ آپ ۖنے تکبر کو علم کیلئے بہت بڑی مصیبت قرار دیا ہے۔ حکماء کا قول ہے کہ جو سرداری کے حصول کیلئے علم حاصل کرتا ہے تو وہ توفیق اور رعایت داری کا احساس کھو دیتا ہے جیسا کہ فرمانِ الہیٰ ہے کہ عنقریب میں اپنی نشانیوں سے ایسے لوگوں کو پھیر دوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں۔
حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے قرآن کا علم سیکھا اس کی قیمت بڑھ گئی، جس نے علمِ فقہ سیکھا اس کی قدر میں اضافہ ہوا، جس نے حدیث سیکھی اس کی دلیل قوی ہوگئی، جس نے حساب سیکھا اس کی عقل پختہ ہوگئی، جس نے نادر باتیں سیکھیں اس کی طبیعت میں نرمی آ گئی اور جس نے اپنی عزت خود نہیں کی اسے علم نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ جو شخص علماء کی محفل میں اکثر حاضر ہوتا ہے اس کی زبان کی رکاوٹ دور ہوتی ہے، ذہن کی الجھنیں کھل جاتی ہیں اور جو کچھ وہ حاصل کرتا ہے وہ اس کیلئے باعثِ مسرت ہوتا ہے جبکہ ایسا علم اس کیلئے ولایت کا درجہ رکھتا ہے۔
فرمانِ نبوی ۖ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کو خیر سے روک دیتا ہے علم کو اس سے دور کر دیتا ہے کیونکہ جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں ہے۔ ان تمام ارشادات سے علم اور علماء کی فضیلت واضح ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اسی مقصد کیلئے آپ ۖ نے تمام تر مصروفیات کے باوجود علم کے فروغ کی خاطر اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم کو ایک مقام پر جمع فرمایا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم نے علم کے حصول میں کمال حاصل کیا اور اسی برکت سے حضور اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجددِ اعظم رضی اللہ عنہ نے علم کی شمع روشن کی۔ ان کے بعد نائبِ اعلیٰ حضرت محدثِ اعظم پاکستان اور شمس المشائخ رضی اللہ عنہما نے بھی علم و تعلیم کے سلسلے کو عام کیا۔ آج قائد ملتِ اسلامیہ، رہبرِ طریقت و شریعت اور سجادہ نشین آستانہ عالیہ محدثِ اعظم پاکستان دام فیوضہم بھر پور طریقے سے فکرِ رضا اور فکرِ محدثِ اعظم پاکستان کی آبیاری کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے۔











