بدلتی ہوئی عالمی معیشت اور پاکستان کیلئے سنہری موقع

0
2
عامر بیگ

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک اہم موڑ وہ بھی تھا جب برطانیہ ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس وقت ایشیا میں کاروباری نقشہ ازسرنو ترتیب پا رہا تھا اور عالمی سرمایہ کار نئی محفوظ بندرگاہوں کی تلاش میں تھے۔ کراچی جو اس خطے کی ایک مضبوط معاشی شہ رگ سمجھا جاتا تھا، قدرتی طور پر ان کی نظروں کا مرکز بنا کیونکہ یہاں بندرگاہ کے ساتھ ساتھ ایک طویل کاروباری روایت اور متحرک معیشت کی بنیاد موجود تھی۔ مگر تاریخ صرف مواقع سے نہیں بلکہ بروقت فیصلوں سے بنتی ہے اور بدقسمتی سے ہم وہ ناگزیر فیصلے نہ کر سکے۔ انہی دنوں دبئی بھی خود کو ایک عالمی تجارتی مرکز بنانے کے خواب دیکھ رہا تھا، تاہم دونوں شہروں کے درمیان اصل فرق نیت اور حکمت عملی کا تھا۔ جہاں ایک طرف دبئی نے سیاسی استحکام، کاروباری سہولت اور طویل المدتی پالیسیوں پر توجہ دی، وہیں کراچی اندرونی خلفشار، بدامنی اور سازشوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ سازشیں صرف بیرونی نہیں تھیں بلکہ ہمارے اپنے ہاتھ بھی اس آگ کو ہوا دینے میں شامل تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں جو کبھی کراچی کا رخ کرنے پر غور کر رہی تھیں، وہ دبئی منتقل ہو گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دبئی ایک عالمی معاشی مرکز بن گیا۔
آج وقت نے ایک اور کروٹ لی ہے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگ کے بادلوں اور غیر یقینی صورتحال نے دبئی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سرمایہ ہمیشہ امن کا متلاشی ہوتا ہے اور جہاں خطرہ منڈلائے، وہاں سے نقل مکانی کرنا اس کی فطرت ہے۔ اگر خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے اور بڑی طاقتیں براہ راست ٹکراؤ کی طرف بڑھتی ہیں، تو اس کے اثرات صرف ایک ملک یا شہر تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایسی صورتحال میں یہ قیاس بے بنیاد نہیں کہ دبئی اپنی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ جنگیں صرف میدان میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشتوں کو بھی ملیا میٹ کر دیتی ہیں۔ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو وہاں موجود سرمایہ نئے محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں نکلے گا اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان بالخصوص کراچی اور گوادر ایک بار پھر تاریخ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔لیکن بنیادی سوال وہی ہے کہ کیا ہم اس بار موقع کو پہچان سکیں گے۔ اگر پاکستان میں حقیقی عوامی مینڈیٹ کی حامل مستحکم اور وڑن رکھنے والی حکومت موجود ہوتی تو وہ اس صورتحال کو ایک سنہری موقع میں بدل سکتی تھی۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم سرمایہ کاروں، تاجروں اور امن کے متلاشی صاحب ثروت افراد کو یہ باور کرایا جا سکتا تھا کہ پاکستان نہ صرف انہیں بہترین کاروباری سہولتیں فراہم کرے گا بلکہ ان کے سرمایہ اور جان کے تحفظ کی مکمل ضمانت بھی دے گا۔ کراچی اپنی جغرافیائی اہمیت، تزویراتی بندرگاہ اور انسانی وسائل کے ساتھ دوبارہ اس خطے کا معاشی محور بن سکتا ہے جبکہ گوادر مستقبل کا ایک عظیم تجارتی راستہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر سنجیدگی سے منصوبہ بندی کی جائے تو یہ دونوں شہر مل کر پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے عرب سرمایہ کار پہلے ہی پاکستان سے ایک قلبی اور جذباتی تعلق رکھتے ہیں، جس کا منہ بولتا ثبوت رحیم یار خان میں ان کی رہائش گاہیں اور محلات ہیں۔ اگر انہیں بہتر انفراسٹرکچر، فول پروف سیکیورٹی اور کاروباری آسانیاں فراہم کی جائیں تو انہیں کراچی یا گوادر منتقل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں فیصلہ سازی ہمیشہ تاخیر کا شکار رہتی ہے اور مقتدر حلقے اکثر وقتی مفادات میں الجھ کر طویل المدتی قومی مفاد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ سوال آج بھی وہی ہے کہ کیا ہم ایک بار پھر تاریخ کا موقع گنوا دیں گے یا اس بار ہمت دکھا کر حالات کا دھارا موڑ دیں گے۔ قوموں کی تقدیر بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی، اس لیے موجودہ علاقائی صورتحال کو اپنے لیے زحمت کے بجائے رحمت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو کسی جنگ میں شریک ہوئے بغیر اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد بھی کرنی چاہیے اور خود کو ایک محفوظ عالمی معاشی مرکز کے طور پر پیش کر کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here