اسرائیل کو”قتل کا لائسنس”
حالیہ برسوں میں غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونیوالی بے دریغ فوجی کارروائیوں اور ہزاروں بے گناہ شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین کی ہلاکتوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ آج یہ سوال محض ایک سیاسی بحث نہیں رہا بلکہ ایک سنگین قانونی سوال بن چکا ہے کہ کیا عالمی طاقتوں کی پشت پناہی نے اسرائیل کو ایک ایسا ”لائسنس ٹو کِل” دیدیا ہے جس کے سامنے بین الاقوامی قوانین بے بس نظر آتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی عدالتوں کی حالیہ کارروائیاں اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جہاں ایک طرف اسرائیل ‘حقِ دفاع’ کا لبادہ اوڑھ کر کارروائیاں کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی برادری اسے کھلی چھوٹ دینے پر منقسم ہے۔
سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب ریاض منصور نے اس صورتحال پر عالمی ادارے کے فورم سے ایک جذباتی اور جھنجھوڑ دینے والا خطاب کیا جس نے عالمی ضمیر پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا کہ کیا فلسطین میں بسنے والے انسان نہیں ہیں ، یقینا ان کی قومیت، رنگ اور زبان دوسرے انسانوں سے مختلف ہو سکتی ہے لیکن ان کی رگوں میں بہنے والا خون بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا دوسری قوموں کا ہے لیکن افسوس کہ انسانیت کی نظروں میں ان معصوم بچوں اور خواتین کا خون کوئی اہمیت اور قیمت نہیں رکھتا۔ ان معصوم لوگوں کے قتل عام کے خلاف سپر پاورز کی بے پناہ پشت پناہی کی وجہ سے اسرائیلی فوجیں فلسطین میں دندناتی پھرتی ہیں۔
وہ کون سا قانون ہے جو ایک ریاست کو اقوامِ متحدہ کے عملے، صحافیوں اور ہسپتال میں موجود مریضوں کو قتل کرنے کا لائسنس دیتا ہے؟ریاض منصور نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی صرف اس لیے ممکن ہے کیونکہ اسے ‘استثنیٰ’ حاصل ہے۔ ان کے الفاظ میں، جب تک مجرموں کو کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، وہ اسی طرح بے خوف ہو کر قتلِ عام جاری رکھیں گے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ان کا کوئی احتساب کرنے والا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض جارحیت نہیں بلکہ فلسطینیوں کے وجود کو مٹانے کی ایک منظم کوشش ہے، اور عالمی خاموشی اس جرم میں برابر کی شریک ہے۔
اس صورتحال میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کا کردار سب سے زیادہ زیرِ بحث رہا ہے، جسے اسرائیل کا سب سے مضبوط دفاعی اور سیاسی ستون سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ نہ صرف اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور جدید ترین اسلحہ فراہم کرتا ہے، بلکہ عالمی فورمز، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کیخلاف آنیوالی ہر بڑی قرارداد کو”ویٹو” (Veto) کے ذریعے روک کر اسے ایک حفاظتی ڈھال بھی فراہم کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی یہ غیر مشروط حمایت اور “حقِ دفاع” کے نام پر اسرائیل کی ہر کارروائی کا دفاع کرنا ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس سے اسرائیل کو یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ کسی بھی عالمی قانون سے بالاتر ہو کر کارروائی کر سکتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ کوئی بھی بڑی عالمی طاقت اسے روکنے کے لیے عملی قدم نہیں اٹھائے گی۔
بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشن کے تحت دنیا کے کسی بھی ملک، بشمول اسرائیل، کے پاس شہریوں کو نشانہ بنانے یا اجتماعی سزا دینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ جنگی قوانین واضح طور پر ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر حملوں کو ‘جنگی جرائم’ قرار دیتے ہیں۔ تاہم، زمین پر موجود حقائق اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں کی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ اسرائیل نے ان قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گنجان آباد علاقوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، جسے ماہرین”نسل کشی” کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے ملنے والی ویٹو کی طاقت اور سفارتی ڈھال نے درحقیقت اسرائیل کو ایک ایسی استثنیٰ فراہم کر دی ہے جو اسے عالمی احتساب سے بچاتی رہی ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں ہونے والی حالیہ تاریخی پیشرفت نے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ جنوبی افریقہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا حقیقی خطرہ موجود ہے اور اسرائیل کو فوری طور پر ایسی تمام کارروائیاں روکنے کا حکم دیا جو انسانیت کیخلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہ عدالتی ریمارکس اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنی مرضی سے خوں ریزی کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ‘دفاع کا حق’ کسی بھی صورت میں جنگی جرائم کا جواز نہیں بن سکتا اور نہ ہی یہ کسی ریاست کو بین الاقوامی قوانین سے بالاتر کرتا ہے۔ اسرائیل ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حماس کو انسانی ڈھال کے استعمال کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، لیکن عالمی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے گروہ کی مبینہ خلاف ورزی کسی ریاست کو لاکھوں شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا ‘لائسنس’ نہیں دے دیتی۔ حقیقت یہ ہے کہ قانونی طور پر ایسا کوئی لائسنس وجود نہیں رکھتا، لیکن عالمی سیاست کا دہرا معیار اور طاقتور ممالک کی خاموشی وہ عوامل ہیں جو اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں۔اب وقت ہے کہ عالمی ادارے صرف قراردادیں پاس نہ کریں بلکہ ان قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ قانون طاقت سے بڑا ہے اور انسانی جان کی حرمت کسی بھی سیاسی مفاد سے مقدم ہے۔















