قربانی کا جذبہ اور اس کی اہمیت!!!

0
17
رعنا کوثر
رعنا کوثر

قربانی کا جذبہ
اور اس کی اہمیت!!!

عیدالاضحیٰ کی آمد اور رخصت کے ساتھ ہی قربانی کی حقیقی روح پر غور و فکر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ قربانی کا اصل مقصد اپنی سب سے پیاری اور عزیز چیز کو اللہ کی راہ میں نثار کرنا ہے۔ ماضی میں پاکستان جیسے معاشروں میں اس عید کا ایک منفرد ہی جذبہ اور ماحول دیکھنے کو ملتا تھا جہاں عید سے کئی روز قبل ہی گھروں میں بکرے اور دیگر قربانی کے جانور آ جاتے تھے۔ رات بھر ان جانوروں کی آوازیں گھروں کے صحن اور دیہی و شہری گھرانوں کے مخصوص حصوں میں گونجتی رہتی تھیں اور سردیوں کے ایام میں ان کے لیے چھوٹے شامیانے یا سائبان تیار کیے جاتے تھے۔ جب گھر کے تمام افراد اور بچے کئی روز تک ان جانوروں کے ساتھ وقت گزارتے تھے تو وہ ان سے مانوس ہو کر انہیں اپنے گھر کا ایک حصہ سمجھنے لگتے تھے اور پھر قربانی کے دن جب قصائی کی موجودگی میں ان جانوروں کو ذبح کیا جاتا تھا تو وہاں بچوں سمیت سبھی لوگ موجود ہوتے تھے۔ بظاہر یہ ایک سخت عمل دکھائی دیتا ہے مگر اس کے پیچھے پوشیدہ اصل حکمت انسان کے اندر حوصلہ، ہمت اور اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا جذبہ بیدار کرنا ہے جس سے بچوں میں بہادری اور ذہنی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ انسانی نفسیات کے ماہرین کے مطابق صرف خون کے بہنے یا جانور کے تڑپنے پر غور کرنے کے بجائے اس کے پس پردہ موجود مصلحتوں کو دیکھنا چاہیے کیونکہ اس عمل سے انسان کو اپنے جذبات پر قابو پانے اور دل کو مضبوط رکھنے کی تربیت ملتی ہے جو خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کر سکیں۔
موجودہ دور میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے ہاں قربانی کا جذبہ تو موجود ہے لیکن وہاں کا طریقہ کار یکسر بدل چکا ہے۔ لوگ رقوم کی ادائیگی کر کے کسی دور دراز مقام پر بکرا یا گائے ذبح کروا دیتے ہیں اور اس کا ثواب تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی نئی نسل اس پورے عمل کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے سے محروم رہ جاتی ہے۔ اس دوری کی وجہ سے بچے قربانی کی حقیقی مصلحت اور اس کی گہرائی کو نہیں سمجھ پاتے کیونکہ انہیں صرف کھلونوں کی آپسی تقسیم یا عام ہمدردی کی باتیں تو سکھائی جاتی ہیں لیکن ان کے اندر وہ ہمت اور ذہنی مضبوطی پیدا نہیں ہو پاتی جو اس مہم جوئی اور لائیو عمل کو دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ جانور کی قربانی کے بعد جب گھروں میں اچانک خاموشی چھا جاتی تھی تو ایک اداسی کا احساس ہوتا تھا جو انسان کو کسی عزیز چیز کے بچھڑنے کا متبادل سکھاتا تھا لیکن اب یہ تمام روایات آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں اور قربانی محض چند ہزار ڈالر کی ادائیگی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جس سے بچوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ پس پردہ کیا قربانی دی گئی ہے۔ اسی لیے غیر ممالک میں رہنے والے والدین کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مخصوص فارم ہاؤسز پر لے کر جائیں اور وہاں جانوروں کی خریداری کے وقت ان پر ہاتھ پھیرنے اور ان کی دیکھ بھال کا موقع فراہم کریں تاکہ نئی نسل کو یہ احساس ہو کہ جانور محض گوشت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک زندہ وجود ہے جس سے محبت کا سلوک کرنا ضروری ہے مگر اللہ کی مصلحت کے تحت اس کا ایک خاص مرتبہ اور مقصد مقرر کیا گیا ہے اور اسی مقصد کو سمجھنا ہی قربانی کا اصل مفہوم ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here