ہم نے اپنے گزشتہ کالم کی آخری سطور میں صدر ٹرمپ کے مسلم رہنمائوں بشمول فیلڈ مارشل عاصم منیر کانفرنس کال ابراہام اکارڈ میں شمولیت کے تقاضے کو امریکہ ایران معاہدے سے مشروط کرنے کے مؤقف کو اسرائیل امریکی سازش قرار دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا تھا وہ گزشتہ ہفتے میں ہونیوالے واقعات و اقدامات سے کُھل کر سامنے آگئے ہیں۔ یہ سچائی بھی سامنے آرہی ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو اور لنڈسے گراہم و پومپیو جیسے اسرائیل نواز اپنے ساتھیوں نیز مضبوط صہیونی لابی کے سامنے بے بس و لاچار ہو گئے ہیں کہ ان کا داماد جیڈ کشنر بھی یہودی نژاد ہے جس نے 2016ء میں ابراہام اکارڈ کا شوشہ نیتن یاہو کے ہمراہ لانچ کیا تھا۔ تفصیل میں جائے بغیر صرف اتنا عرض ہے کہ اس اتحاد کی وجہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم کی اولاد انبیاء کی اُمتوں مسلم، یہود و عیسائیوں کے بظاہر اشتراک و اتحاد پر تھی لیکن درپردہ یہودیت کے منصوبے کے تناظر میں ایک سازش کا آغاز تھا۔ مسلم ریاستوں کا جو حشر کیا گیا اور مغرب خصوصاً امریکی اعانت سے جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ایران و پاکستان تاہم اسرائیل کیلئے ابھی بھی اس کی منافقانہ منصوبے میں راہ کا کانٹا ہیں۔ ایران پر حملہ آور ہونے میں صدر ٹرمپ کو نیتن یاہو اور امریکی صہیونی لابی نے ماموں تو بنا لیا لیکن ایران حلق کی ہڈی بن گیا ہے جو نہ اُگلا جا رہا ہے نہ نگلتے بن رہی ہے۔
جنگیں رکوانے اور جنگ بندی کروا کر عالمی امن کے خواہشمند ٹرمپ اپنی پینترے بدلتی ہوئی فطرت اور صیہونی سازش کا اس طرح شکار ہوئے ہیں کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ایران امریکہ جنگ کے اثرات نہ صرف امریکہ کیلئے ناموافق رہے ہیں بلکہ تقریباً دنیا بھر کیلئے توانائی و معیشت کے ناطے بھی دُشوار اور ناخوشگوار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی و معاملہ فہمی کوششوں اور ٹرمپ کی مسلسل وزیراعظم و فیلڈ مارشل پاکستان کی تعریفوں نیز ایرانی قیادت کے ثالثی روئیے کے سبب صورتحال میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں لیکن ٹرمپ کے صبح شام بدلتے ہوئے متضاد بیانات و دعوئوں اور سب سے بڑھ کر نیتن یاہو و صہیونی دبائو کے باعث معاملات صفر پر آجاتے ہیں، قارئین آغاز سے تاحال ہر حقیقت سے واقف ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو ایک جانب تو میمورنڈم آف انٹینٹ کا غُل تھا اور اس پر سچویشن روم میں سیکیورٹی ٹیم کا اجلاس ہوا۔ ایرانی نکتۂ نظر کی تعریف کی گئی لیکن ٹرمپ نے دستخط نہیں کئے بلکہ اگلے روزمزید سخت نکات کیساتھ مسودہ مسترد کر دیا۔ ٹرمپ کا یہ اقدام دراصل نیتن یاہو اور ان کے اسرائیل نواز صہیونی ساتھیوں کے دبائو کانتیجہ تھا جو اس تنازعہ کا حل نہیں بن سکیں کہ اسرائیلی سازش کا تسلسل چاہتے ہیں ایران کا رد عمل بھی سخت ہی آیا۔
ہم جس وقت یہ سطور تحریر کر رہے ہیں، ایک طرف اسرائیل نے لبنان خصوصاً جنوبی لبنان پر شدید حملوں اور تباہی کا بازار گرم کیا ہوا ہے اور بیشتر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ہزاروں لبنانی مارے جا چکے ہیں، یہی نہیں خلیج میں امریکی بیسز سے ایران پرحملے جاری ہیں۔ خبر یہ ہے کہ اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز اور باب المند بند کرنے اور مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے تو ٹرمپ نے سیز فائر ختم کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے اور دوبارہ جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ کبھی تولہ کبھی ماشہ ٹرمپ کے بیانات کا کچھ پتہ نہیں چلتا البتہ شنید یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ارباب حکومت و ریاست پھر حالات کی کشیدگی دور کرنے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں۔ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ثالثی و مفاہمت کی کوشش بری بات نہیں لیکن وزیر اعظم و فیلڈ مارشل کا اولین فریضہ تو وطن کی سالمیت، سکون اور عوام کی خوشحالی اور حقوق و امن کی پاسداری ہے۔ بھارت، افغانستان اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے ہونیوالی دہشتگردی اور سیاسی و معاشی بے چینی اور عوام کی مشکلات کا مداوا کون کریگا۔ عوام مہنگائی کے بوجھ میں ادھ مرے ہو چکے ہیں، مہنگائی کیساتھ سنا ہے کہ آئی ایم ایف کے دبائو پر لیوی میں بجٹ کے موقع پر مزید اضافہ کیا جائیگا یہی نہیں تین کروڑ کی سیلز پر تاجروں سے صرف پچیس ہزار ٹیکس لیا جائیگا جبکہ تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس کی خبریںبھی ہیں۔ عوام کے حقوق پر ڈاکہ مارنے اور جمہور کی آواز دبانے کا سلسلہ سات جون کو گلگت بلتستان میں ہونیوالے الیکشن کیلئے بھی جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق جی بی میں تحریک انصاف کا 70 فیصد ووٹ بینک ہے لیکن پری پول فکسنگ شروع ہو چکی ہے، حکومتی و شریک حکومت پارٹیوں کو کنونسنگ جلسوں اور اجلاسوں کی اجازت ہے لیکن عوام کی مقبول ترین جماعت کیلئے الیکشن کمیشن کے این او سی اور دیگر سختیاں و دُشواریاں جاری ہیں۔ حالات جس طرف جا رہے ہیں لگتا ہے کہ فارم 47 کا سہارا بھی لیا جائیگا کہ عمران کی جماعت نہ جیت سکے۔ اقتدار میں رہنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ عزت محض ڈپلومیسی میں کامیابی سے ہی نہیں ملتی بلکہ عوام، جمہوریت، انصاف اور حق پر عمل سے ہوتی ہے۔ ظلم و جبر اور نا انصافی ملکوں کے درمیان ہو یا اپنے وطن کے اندر ذلت کا سبب ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭














