تحقیق پر مبنی یہ مضمون مولا علی علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ کے ایک انتہائی اہم اور عموماً نظر انداز کیے جانے والے پہلو یعنی آپ کی معاشی حیثیت، جائیداد اور دولت پر روشنی ڈالتا ہے۔ عام طور پر تاریخ نویسوں نے آپ کی زاہدانہ زندگی اور سادگی کو اس انداز میں پیش کیا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ معاذ اللہ غریب یا نادار تھے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آپ نہ صرف صاحبِ ثروت تھے بلکہ آپ کی دولت کا بڑا حصہ آپ کی اپنی محنت، زراعت، تجارت اور تدبر کا نتیجہ تھا جو آپ نے بعد میں راہِ خدا میں وقف کر دیا۔
آپ کو کچھ جائیداد اپنے والد حضرت ابو طالب علیہ السلام سے ورثے میں ملی تھی لیکن اس سے کہیں زیادہ آپ نے اپنے زورِ بازو سے کمایا۔ تجارت آپ کا آبائی پیشہ تھا اور آپ مویشی پروری اور کھالوں کی تجارت بھی کرتے تھے۔ ان کھالوں سے کاغذ تیار کر کے علم کے فروغ کے لیے دنیا بھر میں بھیجنا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کردہ بنجر زمینوں کو آباد کر کے آپ نے وہاں سرسبز باغات لگائے اور بارہ چشمے اور چوبیس کنویں کھود کر بے حساب املاک بنائیں۔ کلینی، طوسی، مجلسی اور حر عاملی جیسے جلیل القدر محدثین نے آپ کا ایک تاریخی وقف نامہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حوالے سے نقل کیا ہے جس میں اوقافِ علوی کے تحت 18 سرسبز علاقوں کی مالکیت کا ذکر ہے جن میں الاحمر، الدریبتہ، الازینتہ، الاسحن، بیر الملک، البغیغتہ، البغیغات، البیضائ ، ترعتہ، دعتہ، دیمتہ، ذات کمات، رعیتہ، عین ابی نیزر، عین موات، عین فاقتہ، فقیرین القصیبہ، وادی القری اور ینبع شامل ہیں اور ان کی تفصیل ثق? الاسلام طلعت سیدہ نے اپنی کتاب میں درج کی ہے۔
مورخ واقدی کی روایت کے مطابق صرف ایک علاقے بغیبغہ کی شادابی کا یہ عالم تھا کہ وہاں کے نخلستان سے آپ کے دور میں ہی سالانہ 180 واسق یعنی تقریباً 32400 کلو گرام کھجوریں اتاری جاتی تھیں۔ ان کنوؤں اور اراضی کی مالیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعد میں معاویہ نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ کر ایک کنویں کے بدلے 30 لاکھ دینار کی پیشکش کی تھی۔ آپ نے ان تمام اوقاف اور صدقات کا انتظام اپنے بڑے صاحبزادے امام حسن علیہ السلام کے سپرد کیا تھا اور تحریر فرمایا تھا کہ ان کے بعد امام حسین علیہ السلام اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ اس وصیت نامے میں یہ بھی درج تھا کہ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی دونوں بیٹیوں کے لیے جتنا حصہ مقرر کیا گیا ہے، اتنا ہی باقی اولاد کے لیے مجموعی طور پر ہوگا۔ اسی جائیداد اور اوقاف کا نتیجہ تھا کہ امام حسن علیہ السلام کا دسترخوان اتنا وسیع تھا کہ عرب کا کوئی بھی شخص وہاں سے کھانا کھائے بغیر نہ جاتا تھا اور لنگر دن رات جاری رہتا تھا۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کی ازواج، بیٹوں، بیٹیوں، نواسوں، پوتوں اور عقیل و جعفر علیہما السلام کی اولاد سمیت پورے خاندانِ ابو طالب کی کفالت اسی علوی وقف سے ہوتی تھی۔
معرکہ کربلا کے بعد جب امام زین العابدین علیہ السلام مدینہ واپس تشریف لائے تو انہوں نے عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی اراضی کی دیکھ بھال اور کاشتکاری کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ عیسائی مؤرخ عمر ابو نصر لکھتا ہے کہ اس دور میں عرب میں کسی کی تجارت اتنی عظیم نہ تھی جتنی سید الساجدین علیہ السلام کی تھی، جن کے ہزاروں اونٹ سیب، انار اور تازہ کھجوریں لے کر شام جاتے تھے اور جب وہاں سے رقم آتی تو آپ مدینہ کے امیر ترین شخص ہوتے تھے۔ خلافتِ راشدہ کے بعد کے ادوار میں جب فتوحات بڑھیں اور مدینہ میں غلاموں کی منڈیاں لگنے لگیں تو امام زین العابدین علیہ السلام سب سے پہلے وہاں پہنچتے اور ایک ہی دن میں ہزاروں غلام اور کنیزیں خرید کر آزاد کر دیتے۔ ابو نصر کے مطابق آپ نے اپنی زندگی میں ایک لاکھ غلام اور کنیزیں خرید کر آزاد کیے جبکہ پچاس ہزار غلام اور کنیزیں آپ کے باغات اور کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ یہ سب مولا علی علیہ السلام کے قائم کردہ اوقاف کی بدولت ہی ممکن ہوا کیونکہ انہوں نے دولت کمانے کے ساتھ ساتھ اس کے صحیح مصرف کا راستہ بھی دکھایا تھا۔
آپ نے خود تو ہمیشہ سوکھی روٹی کھائی لیکن اپنی دولت امت کے غریبوں پر نچھاور کر دی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ علی علیہ السلام نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک ہزار غلام آزاد کیے۔ خود مولا علی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جس دن میرا عقد سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے ہوا، اس دن ہمارے پاس بچھانے کو چادر تک نہ تھی لیکن بعد میں، میں نے خدا کی راہ میں اتنا صدقہ دیا کہ اگر وہ تمام بنی ہاشم میں تقسیم کر دیا جاتا تو بھی بچ جاتا۔ بلاذری اور فضائلِ احمد میں درج ہے کہ ایک دن آپ نے 40 ہزار دینار مالیت کا غلہ صدقہ کیا اور اسی دن اپنے گھریلو اخراجات کے لیے یہ کہہ کر اپنی تلوار بیچ دی کہ اگر میرے پاس رات کے کھانے کا انتظام ہوتا تو میں اسے کبھی نہ بیچتا۔ آپ کی کمائی غریبوں کا پیٹ بھرنے کے لیے تھی جبکہ آپ کی ذاتی محنت و مزدوری اپنے ذاتی اخراجات کے لیے تھی۔
اکثر مورخین نے آپ کے اس فیاضانہ طرزِ عمل اور جائیدادوں کو وقف کرنے کے پہلو کو نظر انداز کر دیا جو مسافروں اور مسکینوں کے لیے تھیں اور انہوں نے صرف آپ کے پیوند لگے لباس اور سادگی کو دیکھا۔ تاریخ میں ایسی روایات کثرت سے ملتی ہیں کہ ایک شخص سردی کے موسم میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ایک بوسیدہ چادر لپیٹے سردی سے کانپ رہے تھے، جس سے لوگوں نے یہ غلط تاثر قائم کر لیا کہ آپ نادار تھے۔ آپ خلافت سے پہلے اور بعد میں قصداً ایک معمولی زندگی بسر کرتے تھے اور آپ نے دارالامارت یا قصرِ ابیض میں بیٹھنے سے صرف اس لیے انکار کر دیا تاکہ آپ کا گھر معاشرے کے غریب ترین شخص سے بہتر نہ ہو۔ آپ راتوں کو نکل کر لوگوں کے بوجھ اٹھاتے اور بازار میں کبھی اس دکان دار سے سودا نہ خریدتے جو آپ کو امیر المومنین کی حیثیت سے پہچان کر رعایت کرنے کی کوشش کرتا۔ آپ کا یہ اصول تھا کہ جب لوگ آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں تو آپ مصائب میں بھی ان کے شریکِ حال رہیں۔ الغرض، تاریخ نویسوں نے آپ کی دیانت اور ظاہری غربت کا ذکر تو بہت کیا لیکن آپ کی حقیقی ثروت اور اس کے بے مثال استعمال کو کم ہی لکھا۔ آپ صاحبِ ثروت ضرور تھے مگر امامت کے الٰہی منصب کا تقاضا پورا کرنے کے لیے امت کے غریب ترین فرد جیسی زندگی گزارتے تھے۔ یہ مضمون یومِ غدیر 18 ذی الحج کے مبارک موقع کی مناسبت سے مولا علی علیہ السلام کی حقیقی سوانح کے اس درخشاں پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے جس کی تائید آپ کے اس تاریخی وقف نامے سے بھی ہوتی ہے جو آپ نے اپنے دستِ مبارک سے 10 جمادی الاول 36 ہجری کو تحریر فرمایا تھا۔














