حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
امیر المؤمنین، امام المتقین، خلیفة المسلمین، خلیفہ ثالث حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ذوالنورین کا درجہ بھی رکھتے تھے کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دو شہزادیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے ان کے نکاح میں آئیں اور یہ منفرد اعزاز صرف ان ہی کے حصے میں آیا۔ آپ نے اپنی تمام زندگی اطاعتِ خداوندی اور اطاعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں گزاری اور اسلام لانے کے بعد دینِ مبین کی بھرپور خدمت کی۔ قرآن و احادیث میں آپ کی عظمت و شان کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، چنانچہ سورہ فتح میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ جو لوگ بیعت کرتے ہیں وہ اصل میں اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، جبکہ ایک اور مقام پر درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں کے دلوں کا حال جان کر اللہ کی طرف سے ان سے راضی ہونے کی نوید سنائی گئی ہے۔ بیعتِ رضوان میں شامل تمام نفوسِ قدسیہ کیلئے دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دی گئی ہے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی جانب سے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت فرمائی تھی کیونکہ وہ اس وقت سفارتی و سیاسی حالات کا جائزہ لینے کیلئے مکہ مکرمہ میں موجود تھے، لہٰذا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہو چکے ہیں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد آیاتِ طیبات حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی رفعتِ شان کی گواہی دیتی ہیں اور احادیثِ مبارکہ کا ایک وسیع ذخیرہ بھی ان کے فضائل سے مالا مال ہے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان غنی کی سفارش سے ستر ہزار ایسے جہنمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے جن پر آگ واجب ہو چکی ہوگی۔ ایسے جلیل القدر صحابی جن کی شفاعت سے دوزخی بھی جنتی بن رہے ہوں، ان کے مقام و مرتبہ کا احاطہ کرنا انسانی عقل کے بس میں نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ پیکرِ شرم و حیا بھی تھے اور اس وصف میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضور علیہ السلام گھر میں آرام فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی مبارک سے کپڑا ہٹا ہوا تھا کہ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ہیں، چنانچہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی گئی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی۔ بعد ازاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی حاضری کی اجازت طلب کی اور انہیں بھی اجازت مل گئی جس پر انہوں نے کچھ دیر گفتگو کی۔ اس کے بعد جب حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اجازت چاہی تو انہیں بھی اجازت مل گئی مگر اس بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے لباس کو درست فرما لیا۔ تمام شرکاء کی روانگی کے بعد ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ یا رسول اللہ، کیا وجہ ہے کہ ابا جان اور عمر فاروق کے آنے پر آپ اپنی حالت پر رہے لیکن عثمان کی آمد پر آپ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور لباس درست فرما لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ، کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت تقریباً بارہ سال پر محیط ہے اور آپ کے عہدِ اقدس میں جہاں وسیع فتوحات ہوئیں وہاں قرآن پاک کی تدوین و جمع کا عظیم کام بھی پایہِ تکمیل کو پہنچا، اسی بنا پر آپ کے القابات میں جامع القرآن کا لقب انتہائی نمایاں ہے۔ قبولِ اسلام کے بعد جب کبھی دین کی اشاعت اور مالی خدمات کی ضرورت پیش آئی تو آپ ہمیشہ پہلی صف میں نظر آئے اور اسی بے دریغ خرچ کی وجہ سے آپ کو غنی کا اعلیٰ لقب ملا۔ خاص طور پر غزوہ تبوک کے موقع پر آپ کی بے مثال مالی سخاوت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں بیت المال سے کبھی کوئی ذاتی وظیفہ حاصل نہیں کیا بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے ذاتی اثاثوں سے بیت المال کی معاونت کی اور اپنے عہدِ حکومت میں ہر جمعہ کو ایک غلام خرید کر آزاد کرنے کا معمول رکھا۔
آپ کی شہادت کے بارے میں غیب دانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی پیشگوئی فرما دی تھی اور اسی کے مطابق 2026 ہجری کے تاریخی تسلسل میں دیکھا جائے تو 35 ہجری میں باغیوں نے آپ کے کاشانہِ اقدس کا محاصرہ کیا جس کے نتیجے میں مدینہ منورہ کی سرزمیں پر آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ آپ کا مزارِ پر انوار جنت البقیع میں مرجعِ خلائق ہے جہاں عام و خاص حاضری دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دینی خدمات کو قبول فرما کر درجات بلند کرے اور امت کو آپ کے فیوض و برکات سے مستفیض فرمائے۔













