وسیم اکرم کا رمی کا منفرد انداز!!!

0
11
عامر بیگ

حج کے ایام میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہوئی جس میں پاکستان بلکہ دنیا کے عظیم فاسٹ باؤلر وسیم اکرم جمرات میں رمی کرتے ہوئے اپنے مخصوص باؤلنگ ایکشن کا مظاہرہ کرتے دکھائی دئیے۔ جب یہ ویڈیو سامنے آئی تو حسبِ روایت عوامی آراء کے دو دھڑے بن گئے۔ ایک طبقے نے اسے خوشگوار انداز میں لیا اور سراہا جبکہ دوسرا طبقہ اسے شدید تنقید کا نشانہ بنانے لگا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اس عمل میں کوئی ایسی شرعی یا اخلاقی قباحت موجود تھی جس پر اتنا شور مچایا جائے؟
حج کی سعادت حاصل کرنیوالے بخوبی جانتے ہیں کہ جمرات کا منظر جذبات، عقیدت اور گوناگوں کیفیتوں کا ایک منفرد امتزاج ہوتا ہے۔ میں نے اپنی ان گنہگار آنکھوں سے وہاں ایسے بے شمار لوگ دیکھے ہیں جو رمی کرتے وقت مختلف اور عجیب و غریب انداز اختیار کرتے ہیں۔ کوئی کنکری مارتے ہوئے بلند آواز میں اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، کوئی شیطان کو مخاطب کرکے برا بھلا کہتا ہے، کوئی غصے کی مغلوبیت میں جوتا تک اچھال دیتا ہے اور بعض لوگ تو تھوکنے تک کی حرکت کر گزرتے ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ ڈرامائی معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ ان افراد کے اندر موجود باطنی جذبات کی ترجمانی ہوتی ہے۔ اگر فقہی اعتبار سے دیکھا جائے تو رمی کا اصل مقصد مقررہ تعداد میں کنکریاں جمرات پر مارنا ہے۔ مناسکِ حج میں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ کنکریاں کہاں سے لی جائیں اور کتنی تعداد میں ماری جائیں لیکن شریعت میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ہر شخص ایک ہی مخصوص انداز اپنائے۔ کوئی نہایت آہستگی سے کنکری پھینکتا ہے، کوئی قدرے زور سے، کوئی بالکل خاموشی سے اور کوئی اپنے اندرونی جذبات کے بھرپور اظہار کے ساتھ یہ عمل کرتا ہے۔ یہاں اصل اہمیت نیت اور عمل کی درستی کے ساتھ ادائیگی کی ہے نہ کہ اندازِ ادائیگی کی۔
اسی تناظر میں اگر وسیم اکرم نے اپنی پوری زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے فطری باؤلنگ ایکشن میں کنکری پھینک دی تو اس میں ایسا کیا جرم یا گناہ ہوگیا؟ انہوں نے نہ تو کسی کو کوئی جسمانی نقصان پہنچایا، نہ حج کے کسی رکن کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی کسی شرعی حد کو پامال کیا، بس اس پورے منظر کو فلمایا گیا تھا اور مجھے قوی گمان ہے کہ یہ کام بھی ان کے ساتھ جانیوالے معروف اینکر فخر عالم کے موبائل فون سے ہوا ہوگا۔ حج کے بعض واجبات میں اگر کوئی نادانستہ کمی رہ جائے تو شریعت نے دم یعنی قربانی کا راستہ بھی رکھا ہے مگر یہاں تو ایسی کوئی صورت ہی پیدا نہیں ہوتی جس کے لیے دم کی ضرورت پیش آئے۔
ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مختصر سی ویڈیو نے وسیم اکرم کی مقبولیت میں کمی کرنے کے بجائے شاید مزید اضافہ ہی کیا ہے کیونکہ لوگ اسے ایک فطری، بے ساختہ اور خوش مزاجانہ عمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس موجودہ دور میں جہاں اکثر منفی خبریں ہی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں، وہاں ایک ایسی ویڈیو سامنے آنا جس نے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی، بذاتِ خود ایک مثبت اور خوش آئند واقعہ ہے۔ ہمیں یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ عبادات میں اخلاص سب سے بنیادی چیز ہے اور ہر شخص اپنے مزاج، پس منظر اور شخصیت کے مطابق ہی اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ جب تک کوئی عمل شرعی حدود کے اندر ہے، تب تک دوسروں کے انداز کو اپنے خود ساختہ پیمانوں پر ناپنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خود وسیم اکرم کے بقول اس حج نے ان کی پوری زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ البتہ ازراہِ تفنن یہاں یہ عرض ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وسیم اکرم نے جسے کنکریاں ماری ہیں، اسے یا اس جیسے کسی دوسرے کو یہ انداز پسند نہیں آیا ہوگا اور یہ ایک الگ بحث ہے، باقی پوری دنیا تو اسے ایک لیجنڈ فاسٹ باؤلر کی فطری ادا سمجھ کر محظوظ ہی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here