امریکی سیاسی نظام میں تارکین وطن کا کردار ہمیشہ سے انتہائی اہم رہا ہے، خاص طور پر مڈ ٹرم انتخابات اور مختلف عوامی تحریکوں کے تناظر میں یہ اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ گزشتہ پچیس سالوں کی امریکی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امیگرینٹس کے لیے کسی بڑی ایمنسٹی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ماضی میں صدر رونالڈ ریگن نے بغیر دستاویزات کے رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے زرعی پروگرام شروع کر کے گرین کارڈ کے حصول کو ممکن بنایا تھا، جس کے بعد صدر بل کلنٹن کے دور میں بھی لاکھوں تارکین وطن کو قانونی حیثیت ملی۔ تاہم ان کے بعد سے اب تک کوئی جامع ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے آج ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد قانونی حیثیت کے انتظار میں ہیں اور مڈ ٹرم انتخابات کے دوران یہ معاملہ ایک اہم سیاسی رنگ اختیار کر جاتا ہے۔ جب صدر جارج بش کے دور میں مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن نے حقوق کے لیے احتجاج شروع کیا، تو اس وقت کی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں انسانی حقوق اور ویزا پالیسیوں کی مشکلات کا موازنہ امریکی نظام سے کیا تھا۔
امریکہ میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کا عمل طویل اور صبر آزما ضرور ہے، لیکن گرین کارڈ اور شہریت کے حصول کے بعد یہاں کے نظام میں شہریوں کو وسیع تر حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا حق ووٹ کا استعمال ہے، جہاں انتخابی عمل شفافیت پر مبنی ہوتا ہے اور درست حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف پسندیدہ امیدوار کو منتخب کیا جا سکتا ہے بلکہ خود بھی اس سیاسی عمل کا حصہ بن کر عوامی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی نظام کی بدولت متعدد پاکستانی نڑاد امریکی اس وقت مختلف شعبوں اور سیاست میں نمایاں کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔
امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے، لیکن ان کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اب بھی یہاں رہ کر بھی اپنے آبائی علاقوں کی روایتی سیاست اور پارٹی بازی میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب آزاد کشمیر میں مقامی سطح پر عوامی ایکشن کمیٹی نے مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایک منظم اور متحد تحریک چلا کر اپنے حقوق حاصل کیے، امریکہ میں مقیم بعض کشمیری اور پاکستانی عناصر اب بھی نوے کی دہائی کی روایتی سیاست میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ عناصر جدید میڈیا اور بدلی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے بے خبر ہو کر محض مشیر اور کوآرڈینیٹر جیسے علامتی عہدوں کی دوڑ میں شامل ہیں اور جعلی تقریبات یا جھوٹی کارکردگی کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں بنیادی ڈھانچے، ہسپتالوں، یونیورسٹیوں اور صنعتوں کی شدید کمی ہے، جس پر توجہ دینے کے بجائے واشنگٹن اور دیگر شہروں میں صرف عہدوں کی سیاست چمکائی جا رہی ہے۔
امریکہ میں ہونیوالے بڑے انتخابات کے پیش نظر اب یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ کمیونٹی کے اندر موجود خود ساختہ مافیاز، جھوٹے مشیروں اور ایسے جعلی امیدواروں کا محاسبہ کیا جائے جو ہر انتخاب میں بنیادی مرحلے سے پہلے ہی باہر ہو جاتے ہیں لیکن فنڈ ریزنگ کی تقاریب کے بہانے وقت اور وسائل کا زیاں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان انتخابات میں کئی ایسے مخلص اور پڑھے لکھے مرد و خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں جو اسلامی روایات اور اعلیٰ اقدار کے مطابق اپنی کمیونٹی کی حقیقی ترجمانی کرنا چاہتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں اور کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ ایک طرف جہاں کشمیر میں حقوق کی جدوجہد کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی کی اخلاقی حمایت کریں، وہاں امریکہ میں بھی روایتی ٹاؤٹ ازم کو مسترد کر کے کامیاب اور باشعور قوموں کے نقش قدم پر چلیں۔ جب امریکہ میں مقیم کمیونٹی ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر دیانت دار، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مخلص قیادت کی حوصلہ افزائی کرے گی، تو نہ صرف وہ یہاں ایک بااثر قوت بن کر ابھریں گے بلکہ اپنے آبائی علاقوں کی حقیقی ترقی اور خوشحالی میں بھی ایک تعمیری اور یادگار کردار ادا کر سکیں گے۔












