صالحین کا بکھرتا آشیانہ اور نفس کی ابدی جنگ!!!

0
14

انسانی زندگی خیر اور شر کی ایک ایسی آویزش کا نام ہے جو تخلیق آدم کے روز اول سے جاری ہے اور اس کا اختتام سانسوں کی مالا ٹوٹنے پر ہی ممکن ہے۔ عام طور پر معاشرے میں یہ ایک غلط فہم قائم ہو چکی ہے کہ پارسا اور صالح لوگ خطا و نسیان سے بالاتر کوئی ماورائی مخلوق ہوتے ہیں جن کے دامن پر کبھی لغزش کا کوئی داغ نہیں لگتا۔ یہ ایک انتہائی غیر حقیقی اور غیر فطری تصور ہے کیونکہ پارسائی کا مطلب معصومیت نہیں ہے۔ صالحین وہ نہیں ہوتے جن سے کبھی کوئی خطا سرزد نہ ہو بلکہ سچے نکوکار وہ ہیں جنہیں اپنے گناہ چوبیس گھنٹے بے چین اور مضطرب رکھتے ہیں۔ وہ دن رات کی محنت اور مشقت سے تنکا تنکا چن کر اپنی نیکیوں کا ایک خوبصورت گھونسلہ تعمیر کرتے ہیں، لیکن انسانی جبلت کے کسی کمزور لمحے میں اچانک منہ زور نفس کی ایسی آندھی چلتی ہے جو اس بکھرے ہوئے آشیانے کو لمحوں میں تہس نہس کر دیتی ہے۔ اصل کمال اس گھونسلے کا ہمیشہ سلامت رہنا نہیں ہے بلکہ اصل معجزہ اس بربادی کے بعد کا منظر ہے۔
سچے مومن اس بکھرے ہوئے آشیانے کے گرد بیٹھ کر مایوسی کی دلدل میں نہیں گرتے بلکہ وہ ندامت کے سچے آنسو بہاتے ہیں، اپنے پروردگار کے حضور انابت اور گریہ وزاری کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور اپنے قصور کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے آہیں بھرتے ہیں۔ یہی وہ توبہ ہے جو گناہوں کی سیاہی کو دھو کر روح کو دوبارہ جلا بخشتی ہے۔ اس کیفیت کے بعد وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھتے بلکہ ایک بار پھر عزم نو کے ساتھ نیکیوں کے تنکے تلاش کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ روحانیت کا سارا سفر دراصل اسی مسلسل کوشش کا نام ہے۔ یہ بات ہر انسان کو اپنے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جہاد صرف میدان جنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ اصل اور بڑا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے سرکش گھوڑے کو لگام دینے کے لیے ہر پل برسرپیکار رہتا ہے۔ یہ زندگی ایک مستقل اور تھکا دینے والا جہاد ہے۔ ایسا کبھی ممکن نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص رات کو عام انسان بن کر سوئے اور صبح بیدار ہو تو وہ فرشتوں کی صف میں کھڑا ہو۔
اس راستے میں انسان کو بارہا سمٹنا پڑتا ہے اور بارہا بکھرنا پڑتا ہے۔ نفس انسانی کی مثال اس شرارتی بکری جیسی ہے جو اپنے ریوڑ سے بار بار الگ بھاگنے کی کوشش کرتی ہے اور انسان اس چرواہے کی مانند ہے جو اس بھاگتی ہوئی بکری کو دوبارہ ریوڑ کی طرف واپس لانے کی تگ و دو میں ہلکان ہو جاتا ہے۔ اسی لیے دانا کہتے ہیں کہ خالق حقیقی کے راستے میں جینا اس کے راستے میں موت قبول کرنے سے کہیں زیادہ کٹھن اور مشکل کام ہے۔ شہادت کا رتبہ ایک لمحے کی قربانی مانگتا ہے جبکہ بندگی کا سفر زندگی کے ہر ہر لمحے کی قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک انسان اپنی پوری زندگی ایک ایک نیکی جمع کر کے آشیانہ بنانے میں صرف کر دیتا ہے، وہ ہر روز اس راستے کی سختیوں سے تھکتا ہے، لیکن اس تھکن کے باوجود اسے ہار مان کر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ اپنے دل کی شاخ پر مایوسی کی خزاں کو اترنے نہیں دیتا۔ یہ عمل بلاشبہ انتہائی کٹھن ہے لیکن سچائی یہی ہے کہ نیک بننے کی اس مسلسل اور لازوال کوشش میں خود کو تھکا دینا ہی بذات خود سب سے بڑی نیکی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here